مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 534 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 534

دل اور دنیا پرست آدمی ایک ایسے مقدمہ میں پھنس جائے جس سے اس کو جان کا اندیشہ یا دائم الحبس ہونے کا خوف ہو تب وہ دل میں خدا تعالیٰ کو پکارتا رہے اور اپنی بدافعالیوں سے باز رہے اور پھر جب رہائی پا جائے تو اس رہائی کو بخت اور اتفاق پر حمل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسانوں کو بھلا دیوے۔قرآن کو کھول کر دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے کہ جو فرعونی صفت کا کوئی شعبہ اپنے اندر رکھتے ہیں کس قدر مثالیں دی ہیں چنانچہ منجملہ ان کے ایک کشتی کی بھی مثال ہے جب غرق ہونے لگی۔پس اب آتھم صاحب اپنی دہریت پر ناز نہ کریں ذرہ قسم کھاویں پھر عنقریب دیکھیں گے کہ خدا ہے اور وہی خدا ہے جس کو اسلام نے پیش کیا ہے نہ وہ کہ کروڑہا اور بے شمار برسوں کے بعد مریم عاجزہ کے پیٹ سے نکلا اور پھر حباب کی طرح ناپدید ہوگیا۔(۳) اعتراض سویم۔یہ ہے کہ یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کسی پنڈت پاہندے یا رمّال یا جفری کی پیشگوئی پر بھی جب کسی کی موت کی نسبت وہ بیان کرے تو ضرور بوجہ بشریت اس پیشگوئی کا خوف اور دہشت دل میں پیدا ہو جاتا ہے پھر اگر آتھم صاحب کے دل پر بھی اسلامی پیشگوئی کی دہشت طاری ہوئی ہو تو کیوں اس خوف کو بھی بشریت کی طرف منسوب نہ کیا جاوے۔الجواب۔بشر تو بشریت سے کبھی منفک نہیں ہوتا لیکن جب بقول آپ کے اسلامی پیشگوئی کی عظمت اور صداقت نے آتھم صاحب کے دل پر اثر کیا اور ان کو ایک شدید خوف میں ڈال دیا تو بموجب تصریح قرآن کریم کے یہ بھی ایک رجوع کی قسم ہے کیونکہ اسلامی پیشگوئی کی تصدیق درحقیقت اسلام کی تصدیق ہے مثلاً منجم کی پیشگوئی سے وہ شخص ڈرتا ہے جو نجوم کو کچھ چیز سمجھتا ہے اور رمّال کی پیشگوئی سے وہی شخص خائف ہوتا ہے جو رمل کو کچھ حقیقت خیال کرتا ہے اسی طرح اسلامی پیشگوئی سے وہی شخص ہراساں اور لرزاں ہوتا ہے جس کا دل اُس وقت اسلام کا مکذب نہیں بلکہ مصدق ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ اس قدر اسلام کی عظمت اور صداقت کو مان لینا اگرچہ نجات اخروی کیلئے مفید نہیں مگر عذاب دنیوی سے رہائی پانے کے لئے مفید ہے جیسا کہ قرآن کریم نے اس بارہ میں بار بار مثالیں پیش کی ہیں اور بارہا فرمایا ہے کہ ہم نے خوف اور تضرع کے وقت کفار کو