مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 533
پر کوئی ہولناک اثر ڈالا اور نہ اسلامی پیشگوئی کی روحانی ہیبت نے ایک ذرہ بھی میرے دل کو پکڑا بلکہ میں مسیح کی الوہیت اور ابنیت اور کفارہ پر پورا اور کامل یقین رکھتا رہا اور اگر میں خلاف واقعہ کہتا ہوں اور حقیقت کو چھپاتا ہوں تو اے قادر خدا مجھے ایک سال کے اندر ایسے موت کے عذاب سے نابود کر جو جھوٹوں پر نازل ہونا چاہیے یہ قسم ہے جس کا ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں اور جس کے لئے ہم اشتہار شائع کرتے کرتے آج تین ہزار روپیہ تک پہنچے ہیں۔ہم قسمیہ کہتے ہیں کہ ہم باضابطہ تحریر لے کر یعنی حسب شرائط اشتہار نہم ستمبر ۱۸۹۴ء تمسک لکھوا کر یہ تین ہزار روپیہ قسم کھانے سے پہلے دے دیں گے اور بعد میں قسم لیں گے۔پھر کیوں آتھم صاحب پر اس بات کے سننے سے غشی پر غشی طاری ہو رہی ہے کیا اب وہ مصنوعی خدا فوت ہوگیا جس نے پہلے نجات دی تھی یا اس سے اب منجی ہونے کے اختیار چھین لئے گئے ہیں۔ہمیں بالکل سمجھ نہیں آتا کہ کیسی شوخی اور دجالیت ہے کہ یوں تو آتھم صاحب بحیثیت ایک مدعا علیہ کے بہت باتیں کریں یہاں تک کہ اسلام کو جھوٹا مذہب بھی قرار دے دیں اور شیخی کی باتیں منہ سے نکالیں مگر جب بحیثیت شاہد ٹھہرا کر بطرز مذکورہ بالا ان سے قسم لینے کا مطالبہ ہو تو ایسی خاموشی کے دریا میں غرق ہو جائیں کہ گویا وہ دنیا میں ہی نہیں رہے۔کیا اے ناظرین! ان کے اس طرز طریق سے ثابت نہیں ہوتا کہ ضرور دال میں کالا ہے۔غضب کی بات ہے کہ ایک ہزار روپیہ دینا کیا اور رجسٹری کر کے اشتہار بھیجا مگر وہ چپ رہے پھر دو ہزار روپیہ دینا کیا اور رجسٹری کر کے اشتہار بھیجا پھر بھی ان کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی اور دونوں میعادیں گذر گئیں اب یہ تین ہزار روپیہ کا اشتہار جاری کیا جاتا ہے کیا کسی کو امید ہے کہ اب وہ قسم کھانے کیلئے میدان میں آئیں گے ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔وہ تو جھوٹ کی موت سے مرگئے۔اب قبر سے کیونکر نکلیں۔ان کو تو یہ باتیں سن کر غش آتا ہے کیونکہ وہ جھوٹے ہیں اور ایک عاجز اور خاکی انسان کو خدا بناکر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔ابتدا میں جب وہ میعاد کی زندان سے نکلے بولتے بھی نہیں تھے اور سرنگوں رہتے تھے پھر رفتہ رفتہ شیطانی سوسائٹی سے مل کر اور دجالی ہوا کے لگنے سے دل سخت ہوگیا اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھلا دیا پس ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک سخت