مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 532
آتھم صاحب بغیر اس قسم غلیظ کے جس کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں اور جس کے لئے اب ہم تین ہزار روپیہ نقد ان کو دیتے ہیں جو کچھ بیان فرما رہے ہیں یا اخباروں میں چھپوا رہے ہیں وہ سب بیان ایک مدعا علیہ کی حیثیت میں ہے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص مدعا علیہ کی حیثیت سے عدالت میں کھڑا ہوتا ہے تو اپنی ذاتی اغراض اور سوسائٹی اور اپنے دوسرے دنیوی مصالح کے لحاظ سے نہ ایک دفعہ بلکہ لاکھ دفعہ جھوٹ بولنے پر آمادہ ہوسکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس وقت حلف دروغی کا مجرم نہیں، اس قانون قدرت کو ہریک شخص جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ قسم کے وقت دروغ گو کو ضرور پکڑتا ہے اس لئے اگر جھوٹے بے ایمان کو کوئی قسم غلیظ دی جاوے مثلاً بیٹا مر جانے کی ہی قسم ہو تو ضرور اس وقت وہ ڈرتا ہے اور حق کا رعب اس پر غالب آجاتا ہے پس یہی سبب ہے کہ آتھم صاحب قسم نہیں کھاتے اور صرف بحیثیت مدعا علیہ انکار کئے جاتے ہیں۔پس اس عجیب تماشا کو لوگ دیکھ لیں کہ ہم تو ان کو بحیثیت گواہ کھڑا کر کے اور گواہوں کی طرح ایک قسم غلیظ دے کر اس الہام کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ منکر ہیں اور وہ بار بار بحیثیت ایک مدعا علیہ کے اپنا عیسائی ہونا ظاہر کرتے ہیں یہ کس قدر دھوکا ہے جو لوگوں کو دے رہے ہیں۔اس دجّالی فرقے کے مکروں کو دیکھو جو کیسے باریک ہیں ہمارا مدعا تو یہ ہے کہ اگر وہ درحقیقت خوف کے دنوں میں اور ان دنوں میں جو دیوانوں کی طرح وہ بھاگتے پھرتے تھے اور جبکہ ان پر بہت سا اثر دہشت پڑا ہوا تھا درحقیقت اسلامی عظمت اور صداقت سے متاثر نہیں تھے تو کیوں اب بحیثیت ایک گواہ کے کھڑے ہوکر قسم نہیں کھاتے اور کیوں اس طریق فیصلہ سے گریز کر رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ اس طور سے قسم کھانے ۱؎ سے ان کی جان نکلتی ہے جس طور کو ہم نے اپنے اشتہار ہزار روپیہ اور پھر اشتہار دو ہزار روپیہ میں بتصریح بیان کیا ہے یعنی یہ کہ وہ عام مجمع میں ہماری حاضری کے وقت ان صاف اور صریح لفظوں میں قسم کھا جاویں کہ میں نے میعاد پیشگوئی میں اسلام کی طرف ایک ذرہ رجوع نہیں کیا اور نہ اسلامی صداقت اور عظمت نے میرے دل ۱؎ نوٹ۔اس قسم کا نام قسم آئینی ہے یعنی وہ قسم موکد بعذاب موت کھائیں اور ہم آمین کہیں۔آخری فیصلہ قسم ہے اس لئے قانون انگریزی نے بھی ہریک قوم عیسائی وغیرہ کے لئے عند الضرورت قسم پر حصر رکھا ہے۔منہ