مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 526
بطور تیسرے گواہ اپنی صداقت کے جاری کیا ہے۔ہمارے مولوی مکفر جو عیسائیوں کی فتح کو بدل و جان چاہتے ہیں سب مل کر ان کو سمجھا ویں کہ ضرور قسم کھاویں اور ان کی بھی عزت رکھ لیں اور اپنی بھی۔قطعی فیصلہ تو یہ ہے جو قسم کے کھانے یا انکار کرنے سے ہو نہ وہ یکطرفہ الہام جس کے ساتھ صریح شرط رجوع بحق کرنے کی لگی ہوئی تھی اور جس شرط پر عمل درآمد کا ثبوت آتھم صاحب نے اپنی خوفناک حالت دکھلانے سے آپ ہی دے دیا۔بلکہ نور افشاں ۴ا ؍ستمبر ۱۸۹۴ء صفحہ بارہ ۱۲ پہلے ہی کالم کی پہلی ہی سطر میں ان کا یہ بیان لکھا ہے کہ میرا خیال تھا کہ شاید میں مار ابھی جائوں گا۔اسی کالم میں یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے یہ باتیں کہہ کر رو دیا۔اور رونے سے جتلا یا کہ میں بڑے دکھ میں رہا پس ان کا رونا بھی ایک گواہی ہے کہ ان پر اسلامی پیشگوئی کا بہت سخت اثر رہا ورنہ اگر مجھ کو کاذب جانتے تھے تو ایسی کیا مصیبت پڑی تھی جس کو یاد کر کے اب تک رونا آتا ہے پھر اب سب سے بڑھ کر گواہ یہ ہے کہ انہوں نے ہزار روپیہ لے کر قسم کھانا منظور نہیں کیا ورنہ جس شخص کو وہ پندرہ مہینے کے متواتر تجربہ سے جھوٹا ثابت کر چکے ہیں اس کے سراسر جھوٹ بیان کے رد کرنے کے لئے خواہ نخواہ غیرت جوش مارنی چاہیے تھی اور چاہیے تھا کہ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ قسم کھانے کو طیار ہو جاتے کیونکہ اپنے آپ کو سچا سمجھتے تھے اور مجھے صریح کاذب۔خیر اب ہم الزام پر الزام دینے کے لئے ایک اور ہزار روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور یہ دو ہزار روپیہ کا اشتہار جو ہماری صداقت کے لئے بطور گواہ ثالث ہے جاری کرتے ہیں اور ہمارے مخالف حلّ الاشکال۔بعض مخالف مولوی صاحبوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ ایک دشنام دہی کی قسم ہے کہ مخالف مولویوں اور ان کے پیروئوں کو اس طور سے اور اس شرط سے بداصل اور ولد الحرام قرار دیا ہے کہ نہ تو وہ اس خلاف حق کلمہ سے منہ بند کریں کہ اسلام اور عیسائیت کی بحث میں عیسائیوں کی فتح ہوئی۔اور نہ مسٹر آتھم صاحب کو قسم کھانے پر آمادہ کریں۔اور وجہ اعتراض یہ بیان کی گئی ہے کہ آتھم صاحب پر ہمارا کچھ زور اور حکم تو نہیں تاخواہ نخواہ قسم کھانے پر ان کو مستعد کریں۔تو اس کا جواب یہی ہے کہ اے بے ایمانو اور دل کے اندھو اور اسلام کے دشمنو اگر آتھم صاحب قسم کھانے سے گریز کر رہے ہیں تو اس سے کیا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یا یہ نتیجہ کہ درحقیقت آتھم صاحب