مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 511
اور دوسرے تمام پنجاب اور ہندوستان کے عیسائی جو مولوی کہلاتے اور عربی دان ہونے کا دم مارتے تھے جو اب لکھنے سے عاجز رہ گئے اور باوجود اس کے اپنے ناجائز حملوں سے باز نہ آئے بلکہ انہیں دنوں میں پادری عماد الدین نے شرم اور حیا کو علیحدہ رکھ کر قرآن شریف کا ترجمہ چھاپا اور اپنی طرف سے اس پر نوٹ لکھے اور اس ہزار لعنت کا پہلا وارث اپنے تئیں بنایا اور جیسا کہ مباحثہ کی پیشگوئی میں درج تھا کہ اس فریق کو سخت ذلت پہنچے گی جو عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے ویسا ہی وہ تمام ذلت اور رسوائی ان نادان پادریوں کے حصہ میں آئی اور آئندہ کسی کے آگے منہ دکھانے کے قابل نہ رہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ سب لوگ فریق بحث میں داخل اور مسٹر عبد اللہ آتھم کے معین اور حامی تھے بلکہ بحث کے بعد بھی یہ لوگ خیانت کے طور پر اخباروں کے کالم سیاہ کرتے رہے۔اب دانا سوچ لے کہ ہریک کو ہاویہ ان میں سے نصیب ہوا یا کچھ کسر رہ گئی اور ہم اس جگہ ہریک دانا اور روشن دل کو انصاف کے لئے منصف بناتے ہیں کہ کیا اس قدر ذلت اور رسوائی ہاویہ کا نمونہ ہے یا نہیں اور کیا وہ ذلت جس کا الہامی عبارت میں وعدہ تھا اس سے یہ لوگ بچ سکے یا پورا پورا حصہ لیا۔یہ خدا کا فعل ہے کہ اس نے بعد پیشگوئی کے ہریک پہلو سے ان لوگوں کو ملزم کیا اور سب پر پیشگوئی کو جال کی طرح ڈال دیا بعض کو اسرائیلی قوم کے نافرمانوں کی طرح دن رات کے دھڑکہ اور خوف اور ہول کے گڑھے میں دھکیل دیا جیسے مسٹر عبد اللہ آتھم کہ خدا تعالیٰ نے اس کے دل پر وہم کو مستولی کر دیا اور وہ قوم یہود کی طرح جان کے ڈر سے جابجا بھٹکتا پھرا اور دیوانہ پن کے حالات ان میں پیدا ہوگئے اور اس کے حواس اڑ گئے اور قطرب اور مانیا کی بیماری کا بہت سا حصہ اس کو دیا گیا اور اس کے دماغ کی صحت جاتی رہی اور ہوش میں فرق آیا اور ہر وقت موت سامنے دکھائی دی اور اس نے اس قدر خوف اور ڈر اور ہول کو اپنے دل میں جگہ دی کہ عظمت اسلام پر مہر لگا دی اور اپنے اس خوف اور دھڑکہ کو شہر بشہر لئے پھرا اور ہزاروں کو اس بات پر گواہ بنا دیا کہ اس کے دل نے اسلام کی بزرگی اور صداقت کو قبول کر لیا ہے۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وہ اس لئے شہر بشہر بھاگتا پھرا کہ مسلمانوں کے قتل کرنے سے ڈرتا تھا کیونکہ امرت سر کی پولیس کا کچھ ناقص اور ادھورا انتظام نہ تھا تاوہ لدھانہ کی