مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 487 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 487

پر فرماتے ہیں کہ بعض میرے پر ایمان لانے والے پھر مُرتد ہو جائیں گے اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حقیقی بھائی ہی ان سے راہِ راست پر نہ آ سکے۔چنانچہ جان ڈیون پورٹ صاحب لکھتے ہیں کہ اُن کے بھائی اُن سے ہمیشہ بگڑے ہی رہے بلکہ ایک دفعہ انہوںنے قید کرانے کے لیے گورنمنٹ میں درخواست بھی کر دی تھی۔پھر جبکہ وہ لوگ جو اسی ماں کے پیٹ سے نکلے تھے جس پیٹ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکلے تھے حضرت عیسیٰ سے درست نہ ہو سکے تو پھر عوام کی سرسری بیعتوں کی بناء پر کیوں اعتراض کیا جائے۔حضرت عیسیٰ کے بھائی سمجھنے والوں کے لیے ایک نہایت عمدہ نمونہ ہے کہ ایک بھائی تو پیغمبر اور چار حقیقی بھائی بے دین بلکہ دشمن دین اور وہ بھائی باوجود دن رات کے تعلقات کے ایسے سخت منکر رہے کہ اُن سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی نشان کے ہی قائل ہو جائیں۔تعجب کہ کسی اعجوبہ کے بھی قائل نہ ہوئے اور نہ اس بات کے قائل کہ حضرت عیسیٰ کی نسبت پہلی کتابوں میں کوئی پیشگوئی ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ وہی پرانا الزام تالاب معجزہ نما کا جواب تک حضرت عیسیٰ کے سر پر وارد ہوتا چلا آ یا ہے ان کے دلوں میں خوب راسخ تھا۔ورنہ یہ کیا غضب آ گیا بقیہ حاشیہ۔تھا اور آپؐ نے دُعا بھی نہیں کی تھی بلکہ راضی برضائِ مولیٰ ہو کر خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا تھا۔پھر دیکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے کیسا بچا لیا۔دشمنوں کے بیچ میں سے گذر گئے اور ان کے سر پر خاک ڈال گئے مگر ان کو نظر نہ آ سکے۔پھر مخالف لوگ بمدد ایک سُراغ شناس کے اس غار تک پہنچے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخفی تھے۔مگر اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے دشمنوں کو اندھا کر دیا اور وہ دیکھ نہ سکے۔پھر ایک نے ان میں ایسے وقت میںخبر پاکر تعاقب کیا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راہ میں جا رہے تھے۔مگر وہ اور اس کا گھوڑا ایسے طور سے زمین پر گرے کہ وہ سمجھ گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حق پرہیںاور خدا ان کے ساتھ ہے۔ایسا ہی خسرو پرویز نے جب آپ کو گرفتار کرنا چاہا تو ایک ہی رات میں گرفتار پنجہئِ اَجَل ہوگیا۔اور ایسا ہی بدر کی لڑائی میں جبکہ مخالف پوری طیاری کر کے آئے تھے اور اس طرف سراسر بے سامانی تھی خدا تعالیٰ نے وہ نمونہ تائید دکھلایا جس نے روئے زمین پر اسلام کی بنیاد جما دی۔اب جبکہ یہ قاعدہ مسلّم الثبوت ہے کہ سچے نبیوں کے سخت اضطرار کی ضرور دعا قبول ہو جاتی ہے توبار بار یہی اعتراض پیش ہوگا اگر مسیح سچا نبی تھا تو اس کی دعا ایسے اضطراب کے وقت میں جس سے موت کی سی حالت اس پرطاری تھی کیوں قبول نہ ہوئی اور اس عذر کا بیہودہ ہونا تو ظاہر ہو چکا کہ مسیح نے الٰہی روح کے ساتھ دعا