مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 488
کہ حقیقی بھائی ہو کر اس قدر بھی قایل نہ ہوں کہ یہ آدمی اچھا اور بھلا مانس ہے ایسے حقیقی خویشوں کو جو اندرونی حال اور دن رات کے واقعات معلوم ہوتے ہیں دوسروں کو ان سے کیا اطلاع۔تمام یہودی بھی درحقیقت دور نزدیک کے رشتہ دار تھے۔انہوں نے کئی معجزے حضرت مسیح سے مانگے او ر آپ نے ان کو حرام کار کہہ کر ٹال دیا مگر معجزہ نہ دکھلایا۔سچ ہے آپ کے اختیار اور اقتدار میں معجزات نہیں تھے۔پھر کہاں سے دکھلاتے۔یہودی بیوقوف جانتے تھے کہ کسی انسان کے اختیار میں معجزہ نمائی ہے۔مگر درحقیقت معجزہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔پھر عجب تر یہ ہے کہ جس کو حضرت عیسیٰ نے بہشت کی کنجیاں دی تھیں اسی نے برابر کھڑے ہو کر لعنتیں کیں۔ہم نے نہ تو یوسف خان کو بہشتی ٹھہرایا نہ کنجیاں بقیہ حاشیہ۔نہیں کی تھی بلکہ انسانی روح کے ساتھ کی تھی اس لیے ردّ ہوگئی۔مسیح نے تو باپ باپ کر کے بہتیرا پکارا اور اپنا بیٹا ہونا جتلایا۔مگر باپ نے اس طرف رُخ نہ کیا۔اگر شک ہوتو آپ انجیل متی کھول کر ۲۶۔۳۹ میں یہ آیت پڑھ لو۔اور کچھ آگے بڑھ کے منہ کے بل گرا۔اور دُعا مانگتے ہوئے کہا کہ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذر جائے۔عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح خدا تعالیٰ کو الٰہی روح کے لحاظ سے باپ کہتا تھا۔پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ دُعا اقنومِ ابن کی طرف سے تھی تب ہی تو باپ کر کے پکارا مگر باپ نے پھر بھی منظور نہ کی۔تعجب کہ مسیح کا انجیل میں یہ بھی ایک قول ہے کہ مجھے کل اختیار دیا گیا۔مگر کیا خاک اختیار دیا گیا ایک دُعا بھی تو منظور نہ ہوئی۔اور جب مسیح کی اپنی ہی دعا منظور نہ ہوئی تو اس کا شاگردوں کو یہ کہنا کہ تمہاری دعائیں منظور ہوتی رہیں گی اور کوئی بات انہونی نہ ہوگی کس قدر بے معنی معلوم ہوتی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ مسیح نے خدا تعالیٰ کی تقدیر کو منظور کر لیا اس لیے دُعا منظور نہ ہوئی یہ بالکل بیہودہ جواب ہے۔مسیح نے تو سُولی پر چڑھ کر بھی یہی کہا کہ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا، اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔یہ اس کی طرف اشارہ تھا کہ تُو نے میری خواہش کے مطابق کیوں نہ کیا اور میری دُعا کیوں قبول نہ کی۔اور یہ سوال کہ آخری وقت میں مسیح نے ایلی ایلی کیوں کہا ابی ابی کیوں نہ کہا۔اس کا یہی جواب ہے کہ وہ کلمہ محبت کا تھا اور یہ کلمہ خوف کا۔اس لیے اس وقت مسیح مارے خوف عظمت ِ الٰہی کے ابی ابی بُھول گیا اور ایلی ایلی یاد آ گیا اور بے نیازیِ الٰہی کی ایک تجلّی دیکھی اور عاجزی شروع کر دی۔انسان بے بنیاد کی یہی حالت ہے۔جلالی تجلّیات کی برداشت نہیں کر سکتا۔مسیح کا راضی بقضاء ہونا اس وقت تسلیم کیا جاتا کہ جب اس کو موت اور زندگی کا اختیار دیا جاتا اور یہ کہا جاتا کہ ہماری مرضی تو یہ ہے کہ تجھ کو سولی