مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 486 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 486

جگہ آتے رہتے ہیں اور جو شخص آتا ہے بیعت توبہ کی درخواست کرتا ہے اور قبل اس کے جو اس کے حال کی تفتیش کی جائے محض اس نیّت سے وہ سلسلہ بیعت میں داخل کیا جاتا ہے کہ توبہ کرنا بہرحال اچھا ہے۔سو یہ شخص بھی ایسے ہی عام لوگوں میں سے تھا۔جس جگہ صدہا آدمی آویں اس میں ضروری ہوتا ہے کہ جیسے پاک نیّت کے لوگ آتے ہیں ویسے خراب نیّت اور ناپاک دل کے لوگ جائیں۔اس کا اگر نمونہ دیکھنا ہو تو اوّل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں ہی دیکھو کہ یہودا اسکریوطی کیونکر اوّل سے اخیر تک صحبت میں رہ کر صرف تیس روپیہ کے لالچ سے مُرتد ہوگیا۔پطرس نے بھی تین مرتبہ لعنت کی۔باقی سب بھاگ گئے۔شاید حواریوں کی بد اعتقادی کا موجب وہی واقعات ہوں گے جو انجیل متی کے چھبیس باب میں بتفصیل درج ہیں۔کیونکہ حضرت عیسیٰ تمام رات جاگتے رہے اور اپنی رہائی کے لیے دُعا مانگی۔۱؎ اور حواریوں کو بھی کہا کہ تم بھی دُعا مانگو مگر وہ قبول نہیں ہوئی اور جس قدر تکلیف مقدر تھی پہنچ گئی۔اس دُعا میں حضرت مسیح نے یہ بھی کہا تھا کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے مگر دُعا کے نہ قبول ہونے سے حواری بدظن ہو گئے۔اور یہ امر قابل بحث ہے کہ حضرت عیسیٰ نے نبی ہو کر اپنی جان بچانے کے لیے اس قدر کیوں اضطراب کیا۔حاصل کلام یہ کہ انجیل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری اکثر مُرتد ہوتے رہے۔اور اس آخری واقعہ سے پہلے بھی ایک جماعت کثیر مُرتد ہو گئی تھی بلکہ ایک اور مقام میں حضرت عیسیٰ پیشگوئی کے طور ۱؎ حاشیہ۔حضرت عیسیٰ کی اس دُعا کا قبول نہ ہونا جو ایسی سخت بے قراری کی حالت میں کی گئی جس کی نسبت وہ آپ کہتا ہے کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے ایک ایسا امر ہے جس سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ وہ ہرگز خدا نہ تھا بلکہ ایک عاجز اور ضعیف انسان تھا جو دُعا کرتا کرتا مارے غم کے موت تک پہنچ گیا۔مگر خدائے غنی بے نیاز نے دُعا کو قبول نہ کیا۔اگر کہو کہ وہ دُعا انسانی روح سے تھی نہ خدائی رُوح سے اس واسطے منظور نہ ہو سکی۔تو ہم کہتے ہیں کہ تمام پاک انبیاء انسان ہی تھے خدائی کا کس کو دعویٰ تھا تا ہم اُن کی دعائیں اضطراب کے وقت منظور ہوتی رہیں۔اور کوئی ایک نبی بھی بطور نظیر پیش نہیں ہوسکتاجس نے ایسے وقت میںایسے اضطراب کے ساتھ جو موت کی سی حالت ہو دعا کی ہو اور قبول نہ ہوئی ہو۔ہمارے سیّد و مولیٰ خیر الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکّہ معظمہ میں جب دشمنوں نے قتل کرنے کے لیے چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا تھا ایسا ہی اضطراب پیش آیا غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے مگر دُعا کے نہ قبول ہونے سے حواری بدظن ہو گئے۔اور یہ امر قابل بحث ہے کہ حضرت عیسیٰ نے نبی ہو کر اپنی جان بچانے کے لیے اس قدر کیوں اضطراب کیا۔حاصل کلام یہ کہ انجیل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری اکثر مُرتد ہوتے رہے۔اور اس آخری واقعہ سے پہلے بھی ایک جماعت کثیر مُرتد ہو گئی تھی بلکہ ایک اور مقام میں حضرت عیسیٰ پیشگوئی کے طور ۱؎ حاشیہ۔حضرت عیسیٰ کی اس دُعا کا قبول نہ ہونا جو ایسی سخت بے قراری کی حالت میں کی گئی جس کی نسبت وہ آپ کہتا ہے کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے ایک ایسا امر ہے جس سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ وہ ہرگز خدا نہ تھا بلکہ ایک عاجز اور ضعیف انسان تھا جو دُعا کرتا کرتا مارے غم کے موت تک پہنچ گیا۔مگر خدائے غنی بے نیاز نے دُعا کو قبول نہ کیا۔اگر کہو کہ وہ دُعا انسانی روح سے تھی نہ خدائی رُوح سے اس واسطے منظور نہ ہو سکی۔تو ہم کہتے ہیں کہ تمام پاک انبیاء انسان ہی تھے خدائی کا کس کو دعویٰ تھا تا ہم اُن کی دعائیں اضطراب کے وقت منظور ہوتی رہیں۔اور کوئی ایک نبی بھی بطور نظیر پیش نہیں ہوسکتاجس نے ایسے وقت میںایسے اضطراب کے ساتھ جو موت کی سی حالت ہو دعا کی ہو اور قبول نہ ہوئی ہو۔ہمارے سیّد و مولیٰ خیر الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکّہ معظمہ میں جب دشمنوں نے قتل کرنے کے لیے چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا تھا ایسا ہی اضطراب پیش آیا