مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 483
ووزن صناعتہ، أن یتصدّی ذلک المدّعی لتألیف مثل ذلک الکتاب وإنشائِ نظیرِ ہذا العُجاب، بالتزام الارتجال والاقتضاب۔وإنی أمہّل النصاری مِن یوم الطبع إلی شہرین کاملین، فلیُبادر من کان من ذوی العلم والعینین۔وقد أُلہمتُ من ربّی أنّہم کُلّہم کالأعمٰی، ولن یأتوا بمثل ہٰذا، وإنہم کانوا فی دعاویہم کاذبین۔فہل منہم مَن یُبارز برسالۃ، ویجلّی فی ہیجاء البلاغۃ عن بسالۃ، ویکذّب إلہامی ویأخذ إنعامی، ویتحامی اللعنۃَ ویُعین القوم والملّۃ، ویجتنب طعن الطاعنین؟ وإنی فرضتُ لہم خمسۃ آلاف من الدراہم المروّجۃ بعہد مؤکَّد من الحلف بکل حال من الضیق والسعۃ، بشرط أن یأتوا بمثلہا بقیہ ترجمہ۔صنعت کی حقیقت معلوم کرنے اور اس کے متاعِ علم کوتولنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ ایسا مدّعی میری اس کتاب کی مانندکتاب تالیف کرے اور اس میں پائے جانے والے عجائب و غرائب کی نظیر فی البدیہہ تحریر کرنے کا التزام کرے۔میں عیسائیوں کو اپنی اس کتاب کے یوم طباعت سے دو ماہ کی مہلت دیتا ہوں۔لہٰذا جو شخص علم اور دوآنکھیں رکھتا ہے وہ جلدی کرے۔مجھے تو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتادیا ہے کہ وہ سب اندھے ہیں اور اس کی نظیر ہرگز نہ لاسکیں گے اوراپنے دعاوی میں وہ جھوٹے ہیں۔پس ہے کوئی ان میں؟ جو اپنے رسالہ کے ساتھ مقابلہ پرآئے۔اور اس معرکۂ بلاغت میں بہادری کے ساتھ سبقت کرے۔اور میرے الہام کوجھوٹا ثابت کرکے مجھ سے انعام پاوے۔اورلعنت سے محفوظ رہے۔اور قوم وملت کی مدد کرے اور نکتہ چینوں کے طعن وتشنیع سے بھی بچ جائے۔میں نے ان کے لئے پانچ ہزار روپیہ رائج الوقت کا انعام موکّد بحلف اداکرنا اپنے پر فرض قرار دے لیا ہے۔خواہ مجھ پر تنگی کی حالت ہو یافراخی کی۔تاہم شرط یہ ہے کہ وہ ان خصوصیات کاحامل رسالہ اکیلے اکیلے یا میرے تمام مخالفین کی