مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 478
اور اس کے بین السطور میں اردو ترجمہ ہے۔یہ رسالہ محض پادری عماد الدین کی عربی دانی اور مولویت کے آزمانے کے لیے اور نیز ان کے دوسرے مولویوں کے پرکھنے کے لیے تالیف کیا ہے اورا س میں یہ بیان ہے کہ اگر پادری عماد الدین صاحب اور ان کے دوسرے دوست جن کے نام ان کی فہرست میں اور نیز اس رسالہ میں بھی موجود ہیں حقیقت میں مولوی ہیں اور اسلام کے ان اعلیٰ درجہ کے فاضلوں میں سے ہیں جو عیسائی ہو گئے تو اُن کو چاہیے کہ خواہ جُدا جُدا اور خواہ اکٹھے ہو کر اس رسالہ کا جواب اسی حجم اور ضخامت کے لحاظ سے ویسی ہی عربی بلیغ فصیح میں لکھیں جس طرح پر یہ رسالہ لکھا گیا ہے۔اور اسی قدر اس میں عربی اشعار بھی اپنی طبع زاد درج کریں جیسا کہ ہمارے اس رسالہ میں لکھے گئے ہیں۔اگر انہوںنے عرصہ دو ماہ تک ۱؎ ہمارے رسالہ کی اشاعت سے ایسا کر دکھایا اور خود گورنمنٹ کی منصفی سے یا اگر گورنمنٹ منظور نہ کرے تو برضامندی طرفین منصف مقرر ہو کر ثابت ہو گیا کہ ہمارے رسالہ کے مقابل پر ان کا رسالہ نظم و نثر میں و بلحاظ دیگر مراتب قدم بہ قدم و نعل بہ نعل رہے اور اس سے کم نہیں ہے تو پانچ ہزار روپیہ نقد ان کو اسی وقت بلاتوقف بطور انعام دیا جائے گا اور آیندہ اقرار کر دوں گا کہ ان کو قرآن شریف پر حملہ کرنے اور بلاغت فصاحت پر ٹھٹھا کرنے کا حق حاصل ہے۔یہ روپیہ کسی بینک گورنمنٹ میں یا دوسری جگہ میں اوّل جمع کرا دیا جائے گا اور لکھ دیا جائے گا کہ اگر گورنمنٹ اپنے طور پر ثابت کرلے کہ رسالہ کے مقابلہ پر فی الحقیقت ہریک بات میں رسالہ لکھا گیا ہے تو ہماری طرف سے گورنمنٹ مختار ہو گی کہ بلاتوقف وہ روپیہ پادری عماد الدین صاحب کے حوالہ کرے اور پادری صاحب موصوف جس طرح مناسب سمجھیں وہ روپیہ اپنے بھائیوں میں تقسیم کر لیں۔اور اس وقت میں جبکہ ہم رسالہ شائع کر دیں اور پادری عماد الدین صاحب عربی میں برعایت شرائط مذکورہ جواب لکھنا چاہیں اور مستعد ہو کر ہمیں اطلاع دیں اور اپنی تسلّی کے لیے روپیہ جمع کرانے کا مطالبہ کریں۔اگر ہم تین ہفتہ تک گورنمنٹ کے کسی بنک میں یا اور جگہ روپیہ ۱؎ حاشیہ۔ہمارے رسالہ کے بالمقابل رسالہ اسی قدر اور انہیں لوازم کے لحاظ سے لکھنا درحقیقت چار روز سے کچھ زیادہ کام نہیں، لیکن ہم نے اتمام حجت کی غرض سے دو ماہ کی مہلت دی ہے۔ایک مہینہ تالیف کے لیے اور ایک مہینہ چھاپنے اور شائع کرنے کے لیے۔اس لیے اس عرصہ میں چھاپ کر شائع کرنے کی شرط ضروری ہے۔منہ