مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 475
مجموعه اشتہارات ۴۷۵ ١١٨ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ الْعُلَى وَ الصَّلُوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مُحَمَّدٍ خَيْرِ الرُّسُلِ وَأَفْضَلِ كُلِّ مَنْ أُرْسِلَ إِلَى الْوَرَى وَ أَصْحَابِهِ الطَّيِّبِينَ وَ آلِهِ الطَّاهِرِينَ وَ كُلِّ مَنْ تَبِعَهُ وَاتَّقَى (1) رہبر ما سید ما مصطفی است آنکه ندیدست نظیرش سروش (۲) آنکه خدا مثل رخش نا فرید آنکہ رہش مخزن هر عقل و ہوش (۳) دشمن دیں حملہ برو می کند حیف بود گر بنشینم خموش جلد اول (۴) چوں سخن سفلہ بگوشم رسید در دل من برخاست چو محشر خروش (۵) چند توانم که شکپی کنم خزانہ چند کند صبر دل زهر نوش (۶) آں نہ مسلمان بتر از کافرست کش نبود از پئے آں پاک جوش (۷) جال شود اندر رہ پاکش فدا مژدہ ہمیں است گر آید بگوش (۸) سر که نه در پائے عزیزش رود بار گراں است کشیدن بدوش لے ترجمہ اشعار ۔ (۱) مصطفیٰ ہمارا پیشوا اور سردار ہے جس کا ثانی فرشتوں نے بھی نہیں دیکھا۔ (۲) وہ ایسا ہے کہ خدا نے اُس کے چہرہ جیسا اور کہ اور کوئی مکھڑا پیدا نہیں کیا اور جس کا طریقہ ہر قسم کی عقل اور دانش کا ہے۔ (۳) دشمن دین اس پر حملہ کرتا ہے شرم کی بات ہو گی اگر میں خاموش بیٹھا رہوں (۴) جب کمینہ دشم دشمن کی بات میرے کان میں پہنچی تو میرے دل میں قیامت کا جوش پیدا ہوا (۵) کب تک میں صبر کرتا رہوں ۔ زہر پینے والا دل کب تک صبر کر سکتا ہے (۶) وہ شخص مسلمان نہیں بلکہ کافروں سے بھی بدتر ہے جسے اس پاک نبی کے لئے غیرت نہ ہو (۷) اس کے پاک مذہب پر ہماری جان قربان ہو مبارک بات یہی ہے اگر سننے میں آئے (۸) وہ سر جو اس کے مبارک قدموں میں نہ پڑے مُفت کا بوجھ ہے جسے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے۔