مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 473
بعض دور دراز کے غریب مسافروں کو اپنی طرف سے زاد راہ دیا جاوے اور کماحقّہٗ کئی روز صدہا آدمیوں کی مہمانداری کی جاوے اور دوسرے لوازم چارپائی وغیرہ کا صدہا لوگوں کے لئے بندوبست کیا جائے اور ان کے فروکش ہونے کے لئے کافی مکانات بنائے جائیں۔اتنی توفیق ابھی ہم میں نہیں اور نہ ہمارے مخلص دوستوں میں۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ ان تمام سامانوں کو درست کرنا ہزارہا روپیہ کا خرچ چاہتا ہے اور اگر قرضہ وغیرہ پر اس کا انتظام بھی کیا جائے تو بڑے سخت گناہ کی بات ہے کہ جو ضروریات دین پیش آ رہی ہیں وہ تو نظر انداز رہیں اور ایسے اخراجات جو کسی کو یاد بھی نہیں رہتے اپنے ذمہ ڈال کر ایک رقم کثیر قرضہ کی خوانخواہ اپنے نفس پر ڈال لی جائے۔ابھی باوجود نہ ہونے کسی جلسہ کے مہمانداری کا سلسلہ ایسا ترقی پر ہے کہ ایک برس سے یہ حالت ہو رہی ہے کہ کبھی تیس تیس چالیس چالیس اور کبھی سو تک مہمانوں کی موجودہ میزان کی ہر روزہ نوبت پہنچ جاتی ہے جن میں اکثر ایسے غربا فقرا دور دراز ملکوں کے ہوتے ہیں جو جاتے وقت ان کو زادراہ دیکر رخصت کرنا پڑتا ہے برابر یہ سلسلہ ہر روز لگا ہوا ہے اور اس کے اہتمام میں مکرمی مولوی حکیم نور الدین صاحب بدل و جان کوشش کر رہے ہیں اکثر دور کے مسافروں کو اپنے پاس سے زاد راہ دیتے ہیں چنانچہ بعض کو قریب تیس تیس یا چالیس چالیس روپیہ کے دینے کا اتفاق ہوا ہے اور دو دو چار چار تو معمول ہے اور نہ صرف یہی اخراجات بلکہ مہمانداری کے اخراجات کے متعلق قریب تین چار سو روپیہ کے انہوں نے اپنی ذاتی جوانمردی اور کریم النفسی سے علاوہ امدادات سابقہ کے ان ایام میں دیئے ہیں اور نیز طبع کتب کے اکثر اخراجات انہوں نے اپنے ذمہ کر لئے کیونکہ کتابوں کے طبع کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے گو بوجہ ایسے لابدی مصارف کے اپنے مطبع کا اب تک انتظام نہیں ہو سکا لیکن مولوی صاحب موصوف ان خدمات میں بدل و جان مصروف ہیں اور بعض دوسرے دوست بھی اپنی ہمت اور استطاعت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں مگر پھر کب تک اس قدر مصارف کا تحمل نہایت محدود آمدن سے ممکن ہے۔غرض ان وجوہ کے باعث سے اب کے سال التوائے جلسہ مناسب دیکھتا ہوں آگے اللہ جَلَّ شَانُـہٗ کا