مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 461

اِنسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا اور جُرأت کرتا ہے اور شوخی کرتا ہے اورنہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اَب مَیں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آگیا۔مَیں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔معمولی بحثیں تو اَور لوگ بھی کرتے ہیں۔اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کیلئے تھا۔مَیں اِسوقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نِکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو مَیں ہر ایک سزا کے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیاجاوے۔رُوسیاہ کیاجاوے۔میرے گلے میں رسّہ ڈالدیاجاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں اور مَیں اللہجَلَّ شَانُـہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ضرور کرے گا۔ضرورکرے گا۔زمین آسمان ٹل جائیں پر اسکی باتیں نہ ٹلیں گی۔اَب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پورا ہوگیا تو کیا یہ سب آپ کے منشاء کے موافق کامل پیشین گوئی اور خدا کی پیشین گوئی ٹھہرے گی یا نہیں ٹھہرے گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کے بارہ میں جن کو اندرونہ بائبل میں دجّال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں محکم دلیل ہوجائے گی یا نہیں ہو جائے گی؟ اب اس سے زیادہ میں کیا لکھا سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہے۔اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔اور تمام شیطانوں اور بد کاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔لیکن اگر میں سچا ہوں تو انسان کو خدا مت بناؤ۔توریت کو پڑھو کہ اس کی اوّل اورکھلی کھلی تعلیم کیا ہے اور تمام نبی کیا تعلیم دیتے آئے اور تمام دُنیا کس طرف جُھک گئی۔اَب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں اِس سے زیادہ نہ کہوںگا۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی ( مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر) (یہ اشتہارکے آٹھ صفحوں پر ہے) (روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۲۸۶ تا ۲۹۳)