مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 460
ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب قرآن شریف کے معجزات سے عمدًا منکر ہیںاور اس کی پیشین گوئی سے بھی انکاری ہیں اورمجھ سے بھی اسی مجلس میں تین بیمار پیش کر کے ٹھٹھا کیا گیا کہ اگر دینِ اسلام سچا ہے اور تم فی الحقیقت ملہم ہو تو ان تینوں کو اچھے کر کے دکھلاؤ حالانکہ میرا یہ دعویٰ نہ تھا کہ میں قادر مطلق ہوںنہ قرآن شریف کے مطابق مواخذہ تھا۔بلکہ یہ تو عیسائی صاحبوں کے ایمان کی نشانی ٹھہرائی گئی تھی کہ اگر وہ سچے ایماندار ہوں تووہ ضرور لنگڑوں اور اندھوں اوربہروں کو اچھاکریں گے۔مگر تاہم مَیں اِس کے لئے دعا کرتا رہا۔اورآج رات جو مجھ پر کھلاوہ یہ ہے کہ جب کہ مَیں نے بہت تضرّع اور ابتہال سے جنابِ الٰہی میں دُعا کی کہ تُو اِس امر میں فیصلہ کر اورہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اُس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طورپر دیاہے کہ اِس بحث میں دونوںفریقوں میں سے جو فریق عمدًا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اورسچے خدا کوچھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دِنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دِن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذِلّت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طر ف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اورسچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سُوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اوربعض بہر ے سُننے لگیں گے۔۱؎ اِسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے۔سو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالْمِنَّۃ کہ اگر یہ پیشین گوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہورنہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے ۱؎ نوٹ:۔آج جلسہ مباحثہ سے واپس آنے کے بعد قریب ایک بجے دن کے حضرت اقدس کو اس مباحثہ کی فتح پر ایک بشارت بخش الہام ہوا جو حضور نے اُسی وقت حاضرین کو آ کر سُنایا۔او ر وہ یہ ہے۔ھَنَّأَکَ اللّٰہُ یعنی اللہ تعالیٰ تجھے مبارک باد دیتا ہے۔(عبد الکریم)