مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 459 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 459

مجموعه اشتہارات ۴۵۹ جلد اول کے مقابل پر کسی دوسرے کے معجزات کا ذکر کرنا صرف قصہ ہے اس سے زیادہ نہیں مثلاً ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس زمانہ میں اپنی کامل کامیابیوں کی نسبت پیش گوئی کرنا جو قرآن شریف میں مندرج ہے یعنی ایسے زمانہ میں کہ جب کامیابی کے کچھ بھی آثار نظر نہیں آتے تھے بلکہ کفار کی شہادتیں قرآن شریف میں موجود ہیں کہ وہ بڑے دعوی سے کہتے ہیں کہ اب یہ دین جلد تباہ ہو جائے گا اور نا پدید ہو جائے گا ایسے وقتوں میں ان کو سنایا گیا کہ يُرِيدُونَ أَنْ تُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ يَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْکٰفِرُونَ لے یعنی یہ لوگ اپنے منہ کی لاف و گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو کبھی کامیابی نہ ہوگی ۔ یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاوے گا۔ لیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اور نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے۔ پھر ایک اور آیت میں فرمایا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا ۔۔۔۔ الخ یعنی خدا وعده دے چکا ہے کہ اس دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفے پیدا کرے گا اور قیامت تک اس کو قائم کرے گا۔ یعنی جس طرح موسیٰ کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتا رہا ایسا ہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم ہونے نہیں دے گا ۔ اب قرآن شریف موجود ہے حافظ بھی بیٹھے ہیں دیکھ لیجئے کہ کفار نے کس دعوٹی کے ساتھ اپنی رائیں ظاہر کیں کہ یہ دین ضرور معدوم ہو جائے گا اور ہم اس کو کالعدم کر دیں گے اور ان کے مقابل پر یہ پیشین گوئی کی گئی جو قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہرگز تباہ نہیں ہو گا یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہوں گے اور جیسا کہ گزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْعَہ سے میں اشارہ ہے اور پھر فصاحت بلاغت کے بارہ میں فرمایا بِلِسَانِ عَرَبِيّ مُّبِيْنِ کے اور پھر اس کی نظیر مانگی اور کہا کہ اگر تم کچھ کر سکتے ہو اس کی نظیر دو۔ پس عَرَبِيٌّ مُبِينٌ کے لفظ سے فصاحت بلاغت کے سوا اور کیا معنی ہو سکتے ہیں؟ خاص کر جب ایک شخص کہے کہ میں یہ تقریر ایسی زبان میں کرتا ہوں کہ تم اُس کی نظیر پیش کرو۔ تو بجز اس کے کیا سمجھا جائے گا کہ وہ کمال بلاغت کا مدعی ہے اور مبین کا لفظ بھی اسی کو چاہتا ہے۔ بالآخر چونکہ ا التوبة : ٣٢ النور : ۵۶ ۳ الفتح : ٣٠ الشعراء : ١٩٦