مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 429
سیاہ کرنے کی کیا حاجت تھی۔ایک سیدھے معاملہ کی بات تھی کہ بذریعہ خط کے اطلاع دیتے کہ براہین کے چاروں حصے لے لو اور ہمارا روپیہ ہمیں واپس کرو۔مجھے ان کے دلوں کی کیا خبر تھی کہ اس قدر بگڑ گئے ہیں۔میرا کام محض ِ ﷲ تھا۔اور مَیں خیال کرتا تھا کہ گو بعض مسلمان خریداری کے پیرایہ میں تعلق رکھتے ہیں۔مگر اس پُرفتن زمانہ میں ہی للّٰہی نیّت سے وہ خالی نہیں ہیں۔اور للّٰہی نیّت کا آدمی حسن ظن کی طرف بہ نسبت بدظنی کے زیادہ جھکتا ہے۔اگرچہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بدنیتی سے کسی کا کچھ روپیہ رکھ کر اس کو نقصان پہنچاوے۔مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک مؤلف محض نیک نیتی سے پہلے سے ایک زیادہ طوفان دیکھ کر اپنی تالیف میں تکمیل کتاب کی غرض سے توقف ڈال دے۔اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔اﷲ جَلَّ شَانُـہٗ جانتا ہے کہ میرا یہ یقین ہے کہ جیسا کہ میں نے اس توقف کی وجہ سے قوم کے بدگمان لوگوں سے لعنتیں سنی ہیں۔ایسا ہی اپنی اس تاخیر کی جزا میں جو مسلمانوں کی بھلائی کی موجب ہے۔اﷲ تعالیٰ سے عظیم الشان رحمتوں کا مورد بنوں گا۔اب میں اس تقریر کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا۔اصل مدعا میرا اس تحریر سے یہ ہے کہ اَب میں اُن خریداروں سے تعلق رکھنا نہیں چاہتا جو سچے ارادتمند اور معتقد نہیں ہیں۔اس لیے عام طور پر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ ایسے لوگ جو آیندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں یا اُن کے دل میں بھی بدظنّی پیدا ہو سکتی ہے۔وہ براہِ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرماویں اور میں اُن کا روپیہ واپس کرنے کے لیے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اُس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کر دوں گا کہ تا چاروں حصے کتاب کے لے کر روپیہ ان کے حوالہ کرے اور میں ایسے صاحبوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور دشنام دہی کو بھی محض ِ ﷲ بخشتا ہوں کیونکہ مَیں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لیے قیامت میں پکڑا جائے۔اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتاب فوت ہو گیا ہو۔اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملی ہو تو چاہیے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے جو خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے گا اور اگر کسی وارث کے پاس کتاب ہو تو وہ بھی بدستور اس میرے دوست کے پاس روانہ کرے لیکن اگر کوئی کتاب کو روانہ کرے اور یہ معلوم ہو