مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 403

صاحبو! یہ طریق فیصلہ ہے جو اس وقت میں نے ظاہر کیا ہے۔میاں محمد حسین کو اس پر سخت اصرار ہے کہ یہ عاجز عربی علوم سے بالکل بے بہرہ اور کو دن اور نادان اور جاہل ہے۱؎ اور علم قرآن سے بالکل بے خبر ہے اور خدا تعالیٰ سے مدد پانے کے تو لائق ہی نہیں۔کیونکہ کذّاب اور دجّال ہے اور ساتھ اس کے ان کو اپنے کمال علم اور فضل کا بھی دعویٰ ہے۔کیونکہ ان کے نزدیک حضرت مخدوم مولوی حکیم نور الدین صاحب جو اس عاجز کی نظر میں علّامہ عصر اور جامع علوم ہیں۔صرف ایک حکیم؟ اور اخویم مکرم مولوی سید محمد احسن صاحب جو گویا علم حدیث کے ایک پُتلے ہیں صرف ایک منشی ہیں۔پھر باوجود ان کے اس دعویٰ کے اور میرے اس ناقص حال کے جس کو وہ بار بار شائع کرچکے ہیں۔اس طریق فیصلہ میں کون سا اشتباہ باقی ہے۔اور اگر وہ اس مقابلہ کے لائق نہیں۔اور اپنی نسبت بھی جھوٹ بولاہے اور میری نسبت بھی۔اور میرے معظم اور مکرم دوستوں کی نسبت بھی تو پھر ایسا شخص کسی قدر سزا کے لائق ہے کہ کذّاب اور دجّال تو آپ ہو۔اور دوسروں کو خواہ نخواہ دروغ گو کر کے مشتہر کرے۔اور یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ عاجز درحقیقت نہایت ضعیف اور ہیچ ہے گویا کچھ بھی نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ متکبر کا سر توڑے اور اس کو دکھاوے کہ آسمانی مدد اس کا نام ہے۔چند ماہ کا عرصہ ہوا ہے جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون میں نے میاں محمد حسین کا دیکھا۔جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذّاب اور دجّال اور بے ایمان اور باایںہمہ سخت نادان اور جاہل اور علوم دینیہ سے بے خبر ہے۔تب میں جنابِ الٰہی میں رویا کہ میری مدد کر تو اس دعا کے بعد الہام ہوا کہ اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ یعنی دعا کرو کہ میں قبول کروں گا مگر میں بالطبع نافرتھا کہ کسی کے عذاب کیلئے دعا کروں آج جو ۲۹؍شعبان ۱۳۱۰ھ ہے اس مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دعا کیلئے دل کھول دیا۔سو میں نے اس وقت اسی طرح سے رقت دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کیلئے دعا کی اور میرا دل کھل گیا اور میں جانتا ہوں کہ قبول ہوگئی۔اور میں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ وہ اسی موقع کیلئے ہوا تھا۔میں نے اس مقابلہ کیلئے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔اب صاحبو! اگر میں اس نشان میں جھوٹا نکلا یا ۱؎ دیکھو ان کا فتویٰ نمبر ۴ جلد ۱۳ صفحہ ۱۱۵۔