مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 402
نقل عبارت کی طرح نہ ہو بلکہ معارف جدیدہ اور لطائف غریبہ ہوں۔جو کسی دوسری کتاب میں نہ پائے جائیں۔اور باایں ہمہ اصل تعلیم قرآنی سے مخالف نہ ہوں بلکہ ان کی قوت اور شوکت ظاہر کرنے و الے ہوں ۱؎ اور کتاب کے آخر میں سو شعر لطیف بلیغ اور فصیح عربی میں نعت اور مدح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بطور قصیدہ درج ہوں۔اور جس بحر میں وہ شعر ہونے چاہئیں وہ بحر بھی بطور قرعہ اندازی کے اسی جلسہ میں تجویز کیا جائے اور فریقین کو اس کام کیلئے چالیس دن کی مہلت دی جائے۔اور چالیس دن کے بعد جلسہ عام میں فریقین اپنی اپنی تفسیر اور اپنے اپنے اشعار جو عربی میں ہوں گے سنادیں۔پھر اگر یہ عاجز شیخ محمد حسین بٹالوی سے حقائق و معارف کے بیان کرنے اور عبارت عربی فصیح و بلیغ اور اشعار آبدار مدحیہ کے لکھنے میں قاصر اور کم درجہ پر رہا۔یا یہ کہ شیخ محمد حسین اس عاجز سے برابر رہا تو اسی وقت یہ عاجز اپنی خطا کا اقرار کرے گا اور اپنی کتابیں جلا دے گا۔اور شیخ محمد حسین کا حق ہوگا کہ اس وقت اس عاجز کے گلے میں رسہ ڈال کر یہ کہے کہ اے کذّاب۔اے دجّال۔اے مفتری۔آج تیری رسوائی ظاہر ہوئی۔اب کہاں ہے وہ جس کو تو کہتا تھا کہ میرا مددگار ہے۔اب تیرا الہام کہاں ہے اور تیرے خوارق کدھر چھپ گئے لیکن اگر یہ عاجز غالب ہوا تو پھر چاہیے کہ میاں محمد حسین اسی مجلس میں کھڑے ہو کران الفاظ سے توبہ کرے کہ اے حاضرین! آج میری رو سیاہی ایسی کھل گئی کہ جیسا آفتاب کے نکلنے سے دن کھل جاتا ہے اور اب ثابت ہوا کہ یہ شخص حق پر ہے اور میں ہی دجّال تھا اور میں ہی کذّاب تھا اور میں ہی کافر تھا اور میں ہی بے دین تھا اور اب میں توبہ کرتا ہوں۔سب گواہ رہیں۔بعد اس کے اسی مجلس میں اپنی کتابیں جلادے۔اور ادنیٰ خادموں کی طرح پیچھے ہولے۔۲؎ ۱؎ اگر کسی کے دل میں یہ خدشہ گزرے کہ ایسے جدید حقائق و معارف جو پہلی تفاسیر میں نہ ہوں وہ کیونکر تسلیم کئے جاسکتے ہیں اور وہ انہیں پہلی ہی تفاسیر میں محدود کرے تو اسے مناسب ہے کہ عبارت ذیل کو ملاحظہ کرے۔ثُمَّ رَأَیْتُ کُلَّ آیَۃٍ وَکُلَّ حَدِیْثٍ بَحْرًا مَوَّاجًا فِیْہِ مِنْ اَسْرَارٍ مَا لَوْ کُتِبَ شَرْحُ سِرٍّ وَّاحِدٍ مِنْہَا فِیْ مُجَلّدَاتٍ لَمَا اَحَاطَتْہُ وَ رَأَ یْتُ الْاَسْرَارَ الْخَفِیَّۃَ مُتَبَذِّلَۃً فِیْ اَشَارَاتِ الْقُرْآنِ وَالسُّنَّۃِ فَقَضَیْتُ الْعَجَبَ کُلَّ الْعَجَبِ۔فیوض الحرمین۔صفحہ ۴۲ ۲؎ شیخ بٹالوی کو اختیار ہو گا کہ میاں شیخ الکل اور دوسرے تمام متکبر مُلّاؤں کو ساتھ ملا لے۔منہ