مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 396

طرف سے بہ یقین کامل یہ تعبیر ڈالی گئی کہ شیخ صاحب پر اور ان کی عزت پر سخت مصیبت آئے گی اور میرا پانی ڈالنا یہ ہوگا کہ آخر میری ہی دعا سے نہ کسی اور وجہ سے وہ بلا دور کی جائے گی اور میں نے اس خواب کے بعد شیخ صاحب کو بذریعہ ایک مفصل خط کے اپنے خواب سے اطلاع دیدی اور توبہ اور استغفار کی طرف توجہ دلائی مگر اس خط کا جواب انہوں نے کچھ نہ لکھا آخر قریباً چھ ماہ گزرنے پر ایسا ہی ہوا اور میں انبالہ چھائونی میں تھا کہ ایک شخص محمد بخش نام شیخ صاحب کے فرزند جان محمد کی طرف سے میرے پاس پہنچا اور بیان کیا کہ فلاں مقدمہ میں شیخ صاحب حوالات میں ہوگئے میں نے اس شخص سے اپنے خط کا حال دریافت کیا جس میں چھ ماہ پہلے اس بلا کی اطلاع دی گئی تھی تو اُس وقت محمد بخش نے اس خط کے پہنچنے سے لا علمی ظاہر کی لیکن آخر خود شیخ صاحب نے رہائی کے بعد کئی دفعہ اقرار کیا کہ وہ خط ایک صندوق میں سے مل گیا۔پھر شیخ صاحب تو حوالات میں ہو چکے تھے لیکن ان کے بیٹے جان محمد کی طرف سے شاید محمد بخش کے دستخط سے جو ایک شخص ان کے تعلق داروں میں سے ہے کئی خط اس عاجز کے نام دعا کیلئے آئے اور اللّٰہ جَلَّ شَانُـہٗ جانتا ہے کہ کئی راتیں نہایت مجاہدہ سے دعائیں کی گئیں اور اوائل میں صورت قضا و قدر کی نہایت پیچیدہ اور مبرم معلوم ہوتی تھی لیکن آخر خدا تعالیٰ نے دعا قبول کی اور اُن کے بارے میں رہا ہونے کی بشارت دیدی اور اس بشارت سے ان کے بیٹے کو مختصر لفظوں میں اطلاع دی گئی۔یہ تو اصل حقیقت اور اصل واقعہ ہے لیکن پھر اس کے بعد سنا گیا کہ شیخ صاحب اس رہائی کے خط سے انکار کرتے ہیں جس سے لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ گویا اس عاجز نے جھوٹ بولا سو اِس فتنہ کے دور کرنے کی غرض سے اس عاجز نے شیخ صاحب سے اپنا خط طلب کیا جس میں ان کی بریت کی خبر دی گئی تھی مگر انہوں نے وہ خط نہ بھیجا بلکہ اپنے خط ۱۹؍ جون ۱۸۹۲ء میں میرے خط کا گم ہو جانا ظاہر کیا لیکن ساتھ ہی اپنے بیٹے جان محمد کی زبانی یہ لکھا کہ قطعیت بریت کا خبر دینا ہمیں یاد نہیں مگر غالباً خط کے یہ الفاظ یا اس کے قریب قریب تھے کہ فضل ہو جائے گا دعا کی جاتی ہے۔۱؎ یہ قصہ تو یہاں تک رہا اور وہ خط ۱؎ یہ اس عاجز کا لفظ نہیں ہے کہ دعا کی جاتی ہے بلکہ یہ تھا کہ دعا بہت کی گئی اور آخر فقرہ میں بریّت اور فضل الٰہی کی بشارت دی گئی تھی وہ الفاظ اگرچہ کم تھے مگر قلّ و دلّ تھے۔خدا تعالیٰ کسی کا محتاج اور خوشامد گر لوگوں کی طرح نہیں اس کی بشارتیں اکثر اشارات ہی ہوتے ہیں اس کا ہاں یا نہیں کہنا دوسرے لوگوں کے ہزار دفتر سے زیادہ معتبر ہے مگر نادان اور متکبر دنیا دار یہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بھی فرمانبرداروں کی طرح لمبی تقریریں کرے تا اُن کو یقین آوے اور پھر اس بات کو قطعی سمجھیں۔منہ