مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 395
شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیارپور نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ تا دلِ مردِ خدا نامد بدرد ہیچ قومے را خدا رسوا نہ کرد۱؎ ( ) ۲؎ انسان باوجود سخت ناچیز اور مُشت خاک ہونے کے پھر اپنی عاجزی کو کیسے جلد بھول جاتا ہے ایک ذرہ درد فرو ہونے اور آرام کی کروٹ بدلنے سے اپنی فروتنی کا لہجہ فی الفور بدل لیتا ہے پنجاب کے قریباً تمام آدمی شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیارپور سے واقف ہوں گے اور میرے خیال میں ہے کہ جس ایک بیجا الزام میں اپنے بعض پنہانی قصوروں کی وجہ سے جن کو خدا تعالیٰ جانتا ہوگا وہ پھنس گئے تھے۔وہ قصہ ہمارے ملک کے بچوں اور عورتوں کو بھی معلوم ہوگا۔سو اِس وقت ہمیں اس منسوخ شدہ قصہ سے تو کچھ مطلب نہیں صرف اس بات کا ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ اس قصہ سے تخمیناً چھ ماہ پہلے اس عاجز کو بذریعہ ایک خواب کے جتلایا گیا تھا کہ شیخ صاحب کی جائے نشست فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس عاجز نے بار بار پانی ڈال کر بجھایا ہے سو اُسی وقت میرے دل میں خدا تعالیٰ کی ۱؎ ترجمہ۔جب تک کسی مرد خدا کے دل کو تکلیف نہیں پہنچتی خدا کسی قوم کو رسوا نہیں کرتا۔۲؎ العلق: ۷،۸