مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 390
حاشیہ متعلقہ صفحہ ۲۔اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء۔مندرجہ آئینہ کمالات اسلام ۱؎ ۱) عجب نوریست در جانِ محمدؐ عجب لعلیست درکانِ محمدؐ (۲) زظلمت ہا دلے آنگہ شود صاف کہ گردد از محبّان محمدؐ (۳) عجب دارم دلِ آن ناکسان را کہ رو تابند از خوانِ محمدؐ (۴) ندانم ہیچ نفسے در دو عالم کہ دارد شوکت و شانِ محمدؐ (۵) خدا زان سینہ بیزارست صدبار کہ ہست ازکینہ وارانِ محمدؐ (۶) خدا خود سوزد آن کرمِ دنی را کہ باشد از عدوّانِ محمدؐ (۷) اگر خواہی نجات از مستیِ نفس بیا در ذیل مستانِ محمدؐ (۸) اگر خواہی کہ حق گوید ثنایت بشو از دل ثنا خوانِ محمدؐ ترجمہ اشعار۔(۱ )محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان میں ایک عجیب نور ہے محمدؐ کی کان میں ایک عجیب وغریب لعل ہے۔(۲)دل اُس وقت ظلمتوں سے پاک ہوتا ہے جب وہ محمد ﷺ کے دوستوں میں داخل ہو جاتا ہے۔(۳)میں اُن نالایقوں کے دلوں پر تعجب کرتا ہوں جو محمد ﷺ کے دستر خوان سے منہ پھیرتے ہیں۔(۴)دونوں جہان میں مَیں کسی شخص کو نہیں جانتاجو محمد ﷺ کی سی شان وشوکت رکھتا ہو۔(۵)خدا اُس شخص سے سخت بیزار ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کینہ رکھتا ہو۔(۶)خدا خود اس ذلیل کیڑے کو جلا دیتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں میں سے ہو۔(۷)اگر تو نفس کی بدمستیوں سے نجات چاہتا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مستانوں میں سے ہو جا۔(۸)اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تیری تعریف کرے تو تہ دل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مدح خواں بن جا۔