مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 391

۹) اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمدؐ ہست ُبرہانِ محمدؐ (۱۰) سرے دارم فدائے خاک احمد دلم ہر وقت قربانِ محمدؐ (۱۱) بگیسوئے رسول اللہ کہ ہستم نثارِ روئے تابانِ محمدؐ (۱۲) دریں رہ گر کشندم ور بسوزند نتابم رو زِ ایوانِ محمدؐ (۱۳) بکارِ دین نترسم از جہانے کہ دارم رنگ ایمانِ محمدؐ (۱۴) بسے سہلست از دنیا بریدن بیادِ حُسن و احسانِ محمدؐ (۱۵) فدا شد در رہش ہر ذرۂ من کہ دیدم حسن پنہانِ محمدؐ (۱۶) دِگر اُستاد را نامے ندانم کہ خواندم در دبستانِ محمدؐ (۱۷) بدیگر دلبرے کارے ندارم کہ ہستم کُشتۂ آنِ محمدؐ (۱۸) مر آں گوشۂ چشمے بباید نخواہم جز گلستان محمدؐ (۱۹) دلِ زارم بہ پہلوئم مجوئید کہ بستیمش بدامانِ محمدؐ (۲۰) من آں خوش مرغ از مرغانِ قدسم کہ دارد جا بہ بُستانِ محمدؐ (۹)اگر تو اُس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے تو اُس کا عاشق بن جا کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی خود محمد کی دلیل ہے۔(۱۰)میرا سر احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پا پر نثار ہے اور میرا دل ہر وقت محمد ﷺ پر قربان رہتا ہے۔(۱۱)رسول اللہ کی زلفوں کی قسم کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نورانی چہرے پر فدا ہوں۔(۱۲)اس راہ میں اگر مجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جاوے تو پھر بھی میں محمد ؐ کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا۔(۱۳)دین کے معاملہ میں مَیں سارے جہان سے بھی نہیں ڈرتا کہ مجھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کا رنگ ہے۔(۱۴)دنیا سے قطع تعلق کرنا نہایت آسان ہے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان کو یاد کر کے۔(۱۵)اُس کی راہ میں میرا ہر ذرّہ قربان ہے کیونکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مخفی حسن دیکھ لیا ہے۔(۱۶)میں اور کسی استاد کا نام نہیں جانتا میں تو صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہوں۔(۱۷)اور کسی محبوب سے مجھے واسطہ نہیں کہ میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نازو ادا کا مقتول ہوں۔(۱۸)مجھے تو اسی آنکھ کی نظرِ مہر درکار ہے۔میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا(۱۹)میرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے باندھ دیا ہے۔(۲۰)میں طائرانِ ُقدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے۔