مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 381
نبی کریمؐ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی قرآن کریم میں خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے ۱؎ اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت کے بعد اپنا زندہ ہو جانا اور آسمان پر اٹھائے جانا اور رفیق اعلیٰ کو جا ملنا بیان فرماتے ہیں پھر حضرت مسیح کی زندگی میں کونسی انوکھی بات ہے جو دوسروں میں نہیں۔معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نبیوں کو برابر زندہ پایا اور حضرت عیسیٰ کو حضرت یحییٰ کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا۔خدا تعالیٰ مولوی عبدالحق محدّث دہلوی پر رحمت کرے وہ ایک محدّث وقت کا قول لکھتے ہیں کہ ان کا یہی مذہب ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہو کر کسی دوسرے نبی کی حیات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات سے قوی تر سمجھے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے یا شاید یہ لکھا ہے کہ قریب ہے کہ وہ کافر ہو جائے لیکن یہ مولوی ایسے فتنوں سے باز نہیں آتے اور محض اس عاجز سے مخالفت ظاہر کرنے کیلئے دین سے نکلتے جاتے ہیں خدا تعالیٰ ان سب کو صفحہ زمین سے اٹھا لے تو بہتر ہے تا دین اسلام ان کی تحریفوں سے بچ جائے ذرا انصاف کرنے کامحل ہے کہ صدہا لوگ طلب علم یا ملاقات کیلئے نذیر حسین خشک معلّم کے پاس دہلی میں جائیں اور وہ سفر جائز ہو اور پھر خود نذیر حسین صاحب بٹالوی صاحب کا ولیمہ کھانے کیلئے بدیں عمر و پیرانہ سالی دو سو کوس کا سفر اختیار کر کے بٹالہ میں پہنچیں اور وہ سفر بالکل روا ہو اور پھر شیخ بٹالوی صاحب سال بسال انگریزوں کے ملنے کیلئے شملہ کی طرف دوڑتے جائیں تا دنیوی عزت حاصل کرلیں اور وہ سفر ممنوع اور حرام شمار نہ کیا جائے۔اور ایسا ہی بعض مولوی وعظ کا نام لیکر پیٹ بھرنے کیلئے مشرق اور مغرب کی طرف گھومتے پھریں اور وہ سفر جائے اعتراض نہ ہو اور کوئی ان لوگوں پر بدعتی اور بد اعمال اور مردود ہونے کے فتوے نہ دے مگر جبکہ یہ عاجز باذن و امر الٰہی دعوت حق کیلئے مامور ہو کر طلب علم کیلئے اپنی جماعت کے لوگوں کو بلاوے تو وہ سفر حرام ہو جائے اور یہ عاجز اس فعل کی وجہ سے مردود کہلاوے کیا یہ تقویٰ اور خدا ترسی کا طریق ہے؟ افسوس! کہ یہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ تدبیر اور انتظام کو بدعات کی مد میں داخل نہیں کر سکتے۔ہر یک وقت اور زمانہ انتظامات جدیدہ کو چاہتا ہے۔اگر مشکلات کی جدید ۱؎ السجدۃ: ۲۴