مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 376

مجموعه اشتہارات ۳۷۶ جلد اول طلب علم کے سفر کی نسبت احادیث صحیحہ میں بہت کچھ کت و ترغیب پائی جاتی ہے اگر اس وقت وہ تمام حدیثیں لکھی جائیں تو ایک کتاب بنتی ہے۔ ایسے فتوی لکھانے والے اور لکھنے والے یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کو بھی تو اکثر اس قسم کے سفر پیش آ جاتے ہیں۔ پس اگر بجز تین مسجدوں کے اور تمام سفر کرنے حرام ہیں تو چاہیے کہ یہ لوگ اپنے تمام رشتے ناطے اور عزیز اقارب چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کبھی اُن کی ملاقات یا ان کی غم خواری یا ان کی بیمار پرسی کے لئے بھی سفر نہ کریں۔ میں خیال نہیں کرتا کہ بجز ایسے آدمی کے جس کو تعصب اور جہالت نے اندھا کر دیا ہو وہ ان تمام سفروں کے جواز میں متامل ہو سکے صحیح بخاری کا صفحہ ۱۶ کھول کر دیکھو کہ سفر طلب علم کیلئے کسی قدر بشارت دی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ من سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ طَرِيقَ الْجَنَّةِ یعنی جو شخص طلب علم کیلئے سفر کرے اور کسی راہ پر چلے تو خدا تعالیٰ بہشت کی راہ اس پر آسان کر دیتا ہے۔ اب اے ظالم مولوی ! ذرا انصاف کر کہ تو نے اپنے بھائی کا نام جو تیری طرح کلمہ گواہل قبلہ اور اللہ رسول پر ایمان لاتا ہے مردو د رکھا اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بکلی محروم قرار دیا اور اس صحیح حدیث بخاری کی بھی کچھ پروانہ کی کہ اَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِی يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِہ اور مردود ٹھہرانے کی اپنے فتوی میں وجہ یہ ٹھہرائی کہ ایسا اشتہار کیوں شائع کیا اور لوگوں کو جلسہ پر بلانے کیلئے کیوں دعوت کی ۔اے نا خدا ترس ! ذرہ آنکھ کھول اور پڑھ کہ اس اشتہارے دسمبر ۱۸۹۲ء کا کیا مضمون ہے کیا اپنی جماعت کو طلب علم اور حل مشکلات دین اور ہمدردی اسلام اور برادرانہ ملاقات کیلئے بلایا ہے یا اس میں کسی اور میلہ تماشا اور راگ اور سرود کا ذکر ہے۔اے اس زمانہ کے تنگ اسلام مولو یو ! تم اللہ جَلَّ شَانۂ سے کیوں نہیں ڈرتے کیا ایک دن مرنا نہیں یا ہر یک مواخذہ تم کو معاف ہے؟ حق بات کو سن کر اور اللہ اور رسول کے فرمودہ کو دیکھ کر تمہیں یہ خیال تو نہیں آتا کہ اب اپنی ضد سے باز آجائیں بلکہ مقدمہ باز لوگوں کی طرح یہ خیال آتا ہے کہ آؤ کسی طرح باتوں کو بنا کر اس کا رڈ چھاپیں تا لوگ نہ کہیں کہ ہمارے مولوی صاحب کو کچھ جواب نہ آیا۔ اس قدر دلیری اور بد دیانتی اور یہ بخل اور بغض کس عمر کیلئے ۔ آپ کو فتوی لکھنے کے وقت وہ حدیثیں یاد نہ