مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 375
جن میں سفر کرکے زیارت صالحین کرنا موجب مغفرت اور کفارہ گناہاں لکھا ہے۔اور یاد رہے کہ یہ سراسر جہالت ہے کہ شَدِّ رِحَال کی حدیث کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ بجز قصد خانہ کعبہ یا مسجد نبوی یا بیت المقدس اور تمام سفرقطعی حرام ہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ تمام مسلمانوں کو مختلف اغراض کیلئے سفر کرنے پڑتے ہیں کبھی سفر طلب علم ہی کیلئے ہوتا ہے اور کبھی سفر ایک رشتہ دار یا بھائی یا بہن یا بیوی کی ملاقات کیلئے یا مثلًا عورتوں کا سفر اپنے والدین کے ملنے کیلئے یا والدین کا اپنی لڑکیوں کی ملاقات کیلئے اور کبھی مرد اپنی شادی کیلئے اور کبھی تلاش معاش کے لئے اور کبھی پیغام رسانی کے طور پر اور کبھی زیارت صالحین کیلئے سفر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت اویس قرنی کے ملنے کیلئے سفر کیا تھا اور کبھی سفر جہاد کیلئے بھی ہوتا ہے خواہ وہ جہاد تلوار سے ہو اور خواہ بطور مباحثہ کے اور کبھی سفر بہ نیت مباہلہ ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور کبھی سفر اپنے مرشد کے ملنے کیلئے جیسا کہ ہمیشہ اولیاء کبار جن میں سے حضرت شیخ عبد القادر رضی اللہ عنہ اور حضرت بایزیدبسطامی اور حضرت معین الدین چشتی اور حضرت مجدد الف ثانی بھی ہیں اکثر اس غرض سے بھی سفر کرتے رہے جن کے سفرنامے اکثر ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے اب تک پائے جاتے ہیں۔اور کبھی سفر فتویٰ پوچھنے کیلئے بھی ہوتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے اس کا جواز بلکہ بعض صورتوں میں وجوب ثابت ہوتا ہے اور امام بخاری کے سفر طلب علم حدیث کیلئے مشہور ہیں شاید میاں رحیم بخش کو خبر نہیں ہو گی اور کبھی سفر عجائباتِ دنیا کے دیکھنے کیلئے بھی ہوتا ہے جس کی طرف آیت کریمہ ۱؎ اشارت فرما رہی ہے اور کبھی سفر صادقین کی صحبت میں رہنے کی غرض سے جس کی طرف آیت کریمہ ۔۲؎ ہدایت فرماتی ہے اور کبھی سفر عیادت کیلئے بلکہ اتباع جناز کے لئے بھی ہوتا ہے اور کبھی بیمار یا بیماردار علاج کرانے کی غرض سے سفر کرتا ہے اور کبھی کسی مقدمہ عدالت یا تجارت وغیرہ کیلئے بھی سفر کیا جاتا ہے اور یہ تمام قسم سفر کی قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے رو سے جائز ہیں بلکہ زیارت صالحین اور ملاقات اخوان اور ۱؎ الانعام: ۱۲ ۲؎ التوبۃ:۱۱۹