مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 353
بڑے درد اور دُکھ کے ساتھ اور سخت نومیدی کی حالت میں دوسرے عالم کی طرف کوچ کرتا ہے بلکہ قرآن کریم میں نجات کی وہ صاف اور سیدھی اور پاک راہیں بتلائی گئی ہیں کہ جن سے نہ تو انسان کو خدا تعالیٰ سے نومیدی پیدا ہوتی ہے اور نہ خدائے تعالیٰ کو کوئی ایسا نالایق کام کرنا پڑتا ہے کہ گناہ تو کوئی کرے اور سزا دوسرے کو دی جاوے۔غرض یہ کتاب ان نادر اور نہایت لطیف تحقیقاتوں پر مشتمل ہے۔جو مسلمانوں کی ذرّیت کے لیے نہایت مفید اور آج کل روحانی ہیضہ سے بچنے کے لیے جو اپنے زہرناک مادہ سے ایک عالم کو ہلاک کرتا جاتا ہے نہایت مجرب اور شفابخش شربت ہے اور چونکہ یہ کتاب بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کے فسادوں کی اصلاح پر مشتمل ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے مَیں یقین کرتا ہوں کہ یہ کتاب اسلام اور فرقان کریم اور حضرت سیّدنا و مولانا خاتم الانبیاء صلّی اللہ علیہ وسلم کی برکات دنیا پر ظاہر کرنے کے لیے ایک نہایت عمدہ اور مبارک ذریعہ ہے۔اس لیے میں نے اللہجَلَّ شَانُـہٗ پر توکّل کر کے چودہ سو ۱۴۰۰ کاپی اس کی چھپوانی شروع کر دی ہے اور امید ہے کہ ڈیڑھ ماہ یا غایت دو ماہ تک یہ کام بخیر و خوبی ختم ہو جائے۔اور چونکہ میں نے بغرض اہتمام بلیغ صحت و خوش خطی و دیگر مراتب پریس کو اپنے مسکن قادیان میں معہ اس کے تمام عملہ و اسباب و سامان کے منگوا لیا ہے اور کاغذ بھی بہت عمدہ لگایا گیا ہے۔اس لیے مجھ کو اس کتاب کے اہتمام طبع میں معمولی صورتوں سے دو چند خرچ کرنا پڑا۔اور اگرچہ میری نظر میںیہ یقینی امر ہے کہ کتاب کی ضخانت اس قدر بڑھ جائے گی کہ شاید اصل قیمت اس کی بنظر تمام مصارف اور حرجوں کے دو روپیہ یا اس سے بھی زیادہ ہو۔مگر چونکہ یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ بعض لوگ بباعث نابینائی اور نہایت کم توجہی کے دین اور دینی کتابوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور حقایق اور معارف کے موتیوں کو کوڑیوں کے مول پر بھی لینا نہیں چاہتے۔اس لیے ہریک نقصان اور حرج قبول کر کے صرف ایک روپیہ اس کتاب کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔مگر محصول علاوہ ہے۔اِس مقام میں اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب اور اخویم حکیم فضل دین صاحب اور اخویم نواب محمد علی خان صاحب اور اخویم مولوی سیّدتفضل حسین صاحب اور احباب سیالکوٹ اور کپورتھلہ کی ہمدردی کا شکر قابل