مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 354

اظہار ہے کہ انہوں نے میری پہلی کتابوں کی خریداری میں بہت مدد دی۔جس کا ذکر انشاء اللہ محض تَرْغِیْبًا لِلْمُسْلِمِیْنَ اِس کتاب کے آخر میں معہ ذکر دیگر احباب کیا جائے گا۔خدا تعالیٰ سب کو ہمدردی اسلام کے لیے جگاوے۔اور اس خدمت کے لیے آپ ان کے دلوں میں الہام کرے۔اگرچہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں جان دینے کو بھی حاضر ہیں۔اور اگر ہماری جانفشانی سے کچھ بن سکتا ہے تو ہم اپنا خون بہانے کو بھی طیّار ہیں۔سرکہ نہ در پائے عزیزش رود بارِ گران است کشیدن بدوش۱؎ مگر اس وقت مال کا کام ہے جو ہمارے ہاتھ میں نہیں۔جمہوری کام جمہور کی توجہ سے ہوتے ہیں۔بھائیو! تم دیکھتے ہو کہ اسلام کے باغ پر کس قدر ہر طرف سے تیشے رکھے گئے ہیں اور اسلام کی نسبت کیا ارادہ کیا گیا ہے اور ہمارے پیارے نبی ہمارے محبوب رسول افضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کیا کچھ افترا کئے جاتے ہیں اور کس قدر ذریعے خلق اللہ کے بہکانے کے لیے استعمال کئے گئے ہیں۔بھائیو! آج وہ دن ہے کہ فقرا کی دعا اور علماء کی علمیّت اور اغنیا کی دولت، اسلام کی عزت اور نبی کریمؐ کے جلال اور شوکت ظاہر کر نے کے لیے اس زورو شور سے خرچ ہو کہ جیسے ایک سفلہ دُنیاپرست کور باطن اپنے کسی عزیز فرزند کی شادی کے لیے دل کھول کر اپنامال عزیز خرچ کرتا ہے یا ایک جاہل امیر اپنی شان و شوکت کی عمارت بنانے کے لیے ایک خزانہ کھول دیتا ہے۔سو اُٹھو اور کچھ خدمت کر لو کہ دنیا روزے چند اور آخرکار باخدواند۔اگرچہ اس عاجز کا ذرہ ذرہ اس جوش میں ہے کہ اس پُرظلمت زمانہ میں اللہ جَلّ شَانُـہٗ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور صداقت ظاہر کرے تا اسلام کی روشنی کے دن دوبارہ آویں، لیکن جو باتیں مصارف مالی پر موقوف ہیں وہاں کیا ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ آپ پر رحم کرے۔اگر اس وقت اور اس زمانہ میں کوئی دولت مند خواب غفلت سے بیدار ہو جائے تو مولیٰ کریم اور اس کے رسول سیّد الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے راضی کرنے کے لیے کیسا عمدہ اور مبارک وقت ہے۔۱؎ ترجمہ۔وہ سر جو محبوب کے قدموں میں قربان نہ ہو اسے کندھوں پر اٹھائے رکھنا ایک بار گراں ہے۔