مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 347
شیخ بٹالوی صاحب کے فتویٰ تکفیر کیکیفیّت اس فتویٰ کو میں نے اوّل سے آخر تک دیکھا۔جن الزامات کی بناء پر یہ فتویٰ لکھا ہے انشاء اللہ بہت جلد اُن الزامات کے غلط اور خلاف واقعہ ہونے کے بارے میں ایک رسالہ اس عاجز کی طرف سے شائع ہونے والا ہے جس کا نام دافع الوساوس ہے باایں ہمہ مجھ کو ان لوگوںکے لعن و طعن پر کچھ افسوس نہیں اور نہ کچھ اندیشہ بلکہ میں خوش ہوں کہ میاں نذیر حسین اور شیخ بٹالوی اور ان کے اتباع نے مجھ کو کافر اور مردود اور ملعون اور دجّال اور ضال اور بے ایمان اور جہنمی اور اکفر کہہ کر اپنے دل کے وہ بخارات نکال لئے جو دیانت اور امانت اور تقویٰ کے التزام سے ہرگز نہیں نکل سکتے تھے اور جس قدر میری اتمام حجت اور میری سچائی کی تلخی سے ان حضرات کو زخم پر زخم پہنچا۔اس صدمہ عظیمہ کا غم غلط کرنے کیلئے کوئی اور طریق بھی تو نہیں تھا بجز اس کے کہ لعنتوں پر آجاتے مجھے اس بات کو سوچ کر بھی خوشی ہے کہ جو کچھ یہودیوں کے فقیہوں اور مولویوں نے آخرکار حضرت مسیح علیہ السلام کو تحفہ دیا تھا وہ بھی تو یہی لعنتیں اور تکفیر تھی جیسا کہ اہل کتاب کی تاریخ اور ہر چہار انجیل سے ظاہر ہے تو پھر مجھے مثیل مسیح ہونے کی حالت میں ان لعنتوں کی آوازیں سن کر بہت ہی خوش ہونا چاہیے کیونکہ جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ کو حقیقت دجّالیہ کے ہلاک اور فانی کرنے کے لئے حقیقت عیسویہ سے متصف