مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 348

کیا۔ایسا ہی اس نے اس حقیقت کے متعلق جو جو نوازل و آفات تھے ان سے بھی خالی نہ رکھا لیکن اگر کچھ افسوس ہے تو صرف یہ کہ بٹالوی صاحب کو اس فتویٰ کے طیار کرنے میں یہودیوں کے فقیہوں سے بھی زیادہ خیانت کرنی پڑی اور وہ خیانت تین قسم کی ہے۔اوّل یہ کہ بعض لوگ جو مولویّت اور فتویٰ دینے کا منصب نہیں رکھتے وہ صرف مکفرین کی تعداد بڑھانے کیلئے مفتی قرار دیئے گئے۔دوسری یہ کہ بعض ایسے لوگ جو علم سے خالی اور علانیہ فسق و فجور بلکہ نہایت بدکاریوں میں مبتلا تھے وہ بڑے عالم متشرع متصور ہو کر ان کی مہریں لگائی گئیں۔تیسرے ایسے لوگ جو علم اور دیانت رکھتے تھے مگر واقعی طور پر اس فتوے پر انہوں نے مہرنہیںلگائی بلکہ بٹالوی صاحب نے سراسر چالاکی اور افترا سے خودبخود ان کا نام اس میں جڑ دیا۔ان تینوں قسم کے لوگوں کے بارے میں ہمارے پاس تحریری ثبوت ہیں اگر بٹالوی صاحب یا کسی اور صاحب کو اس میں شک ہو تو وہ لاہور میں ایک جلسہ منعقد کر کے ہم سے ثبوت مانگیں۔تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔یوں تو تکفیر کوئی نئی بات نہیں ان مولویوں کا آبائی طریق یہی چلا آتا ہے کہ یہ لوگ ایک باریک بات سن کر فی الفور اپنے کپڑوں سے باہر ہوجاتے ہیں اور چونکہ خدائے تعالیٰ نے یہ عقل تو ان کو دی ہی نہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچیں اور اسرار غامضہ کی گہری حقیقت کو دریافت کرسکیں اس لئے اپنی نافہمی کی حالت میں تکفیر کی طرف دوڑتے ہیں اور اولیاء کرام میں سے ایک بھی ایسا نہیں کہ ان کی تکفیرسے باہر رہا ہو۔یہاں تک کہ اپنے مُنہ سے کہتے ہیں کہ جب مہدی موعود آئے گا تو اس کی بھی مولوی لوگ تکفیر کریں گے اور ایسا ہی حضرت عیسیٰ جب اتریں گے تو ان کی بھی تکفیر ہوگی۔ان باتوں کا جواب یہی ہے کہ اے حضرات! آپ لوگوں سے خدا کی پناہ۔اُوسُبْحَانَہٗ خود اپنے برگزیدہ بندوں کوآپ لوگوں کے شر سے بچاتا آیا ہے ورنہ آپ لوگوں نے تو ڈائن کی طرح امت محمدیہ کے تمام اولیاء کرام کو کھا جاناچاہا تھا اور اپنی بد زبانی سے نہ پہلوں کو چھوڑا نہ پچھلوں کو۔اور اپنے ہاتھ سے ان نشانیوں کو پوری کررہے ہیں جو آپ ہی بتلارہے ہیں۔تعجب کہ یہ لوگ آپس میں بھی تو نیک ظن نہیں