مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 336

مجموعه اشتہارات ۳۳۶ جلد اول دفع الوقتی پر مبنی ہے۔ افسوس صد افسوس۔ اللہ سے ڈرو۔ قیامت کو پیش نظر رکھو ۔ ایسی مریدی پیری پر خاک ڈالو ۔ جس مطبع میں آپ اپنا مضمون چھاپنے کے لیے بھیجیں اس عاجز کے مضمون کو بھی زیر قدم چھاپ دیں۔ عریضہ نیاز ۔ میر عباس علی از لدھیانہ ۔ روز دوشنبه ۹ رمئی ۱۸۹۲ء جواب جواب الجواب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى - بعد هذا بخدمت میر عباس علی صاحب واضح ہو کہ آپ کا جواب الجواب مجھ کو ملا۔ جس کے پڑھنے سے بہت ہی افسوس ہوا۔ آپ مجھ کو لکھتے ہیں کہ صوفی صاحب کے مقابلہ پر مرد میدان بنیں ۔ اگر سچے ہو تو حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو۔ آپ کی اس تحریر پر مجھ کو رونا آتا ہے۔ صاحب میں نے کب اور کس وقت حیلہ بہانہ کیا۔ کیا آپ کے نزدیک وہ صوفی صاحب جن کے نام کا بھی اب تک کچھ پتہ ونشان نہیں میدان میں کھڑے ہیں۔ میں نے آپ کو ایک صاف اور سیدھی بات لکھی تھی کہ جب تک کوئی مقابل پر نہ آوے اپنا نام نہ بتاوے۔ اپنا اشتہار شائع نہ کرے کس سے مقابلہ کیا جائے۔ میں کیونکر اور کن وجوہ سے اس بات پر تسلی پذیر ہو جاؤں کہ آپ یا شیخ بٹالوی اس صوفی گمنام کی طرف سے وکیل بن گئے ہیں۔ کوئی وکالت نامہ نہ آپ نے پیش کیا اور نہ بٹالوی نے ۔ اور اب تک مجھے معلوم نہیں ہوا کہ اس صوفی پردہ نشین کو وکیلوں کی کیوں ضرورت پڑی۔ کیا وہ خودستر میں ہے یا اسصوفی پڑی وہ خود ترمیم دیوانہ یا نا بالغ ۔ بجز اس کے کیا سمجھنا چاہیے کہ اگر فرض کے طور پر کوئی صوفی ہی ہے تو کوئی فضول گو اور مفتری آدمی ہے جو بوجہ اپنی مفلسی اور بے سرمائیگی کے اپنی شکل دکھلائی نہیں چاہتا۔ میں متعجب ہوں ۔ یہ سیدھی بات آپ کو سمجھ نہیں آتی۔ یہ کس قسم کی بات ہے کہ صوفی تو عورتوں کی طرح چھپتا پھرے اور مرد میدان بن کر میرے مقابلہ پر نہ آوے اور الزام اس عاجز پر ہو کہ کیوں صوفی کے مقابل