مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 315
کی زیارت کراکر اپنے دعاوی کی تصدیق کرادی جائے اور یا میں زیارت کراکر اس بارہ میں فیصلہ کرادوں گا۔میر صاحب کی اس تحریر نے نہ صرف مجھے ہی تعجب میں ڈالا بلکہ ہر ایک واقف حال سخت متعجب ہورہا ہے کہ اگر میرصاحب میں یہ قدرت اور کمال حاصل تھا کہ جب چاہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں اور باتیں پوچھ لیں بلکہ دوسروں کو بھی دکھلاویں تو پھر انھوں نے اس عاجز سے بدوں تصدیق نبوی کے کیوں بیعت کر لی اور کیوں دس۱۰ سال تک برابر خلوص نمائوں کے گروہ میں رہے تعجب کہ ایک دفعہ بھی رسول کریمؐ اُن کی خواب میں نہ آئے اور ان پر ظاہر نہ کیا کہ اس کذّاب اور مکّار اور بے دین سے کیوں بیعت کرتا ہے اور کیوں اپنے تئیں گمراہی میں پھنساتا ہے کیا کوئی عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص کو یہ اقتدار حاصل ہے کہ بات بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حضوری میں چلا جاوے اور ان کے فرمودہ کے مطابق کاربند ہو اور اُن سے صلاح مشورہ لے لے وہ دس برس تک برابر ایک کذّاب اور فریبی کے پنجہ میں پھنسا رہے اور ایسے شخص کا مرید ہوجاوے جو اللہ اور رسول کا دشمن اور آنحضرتؐ کی تحقیر کرنے والا اور تحت الثریٰ میں گرنے والا ہو، زیادہ تر تعجب کا مقام یہ ہے کہ میر صاحب کے بعض دوست بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بعض خوابیں ہمارے پاس بیان کی تھیں اور کہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلعم کو خواب میں دیکھا اور آنحضرت ؐنے اِس عاجز کی نسبت فرمایا کہ وہ شخص واقعی طور پر خلیفۃ اللہ اور مجدّد دین ہے اور اسی قسم کے بعض خط جن میں خوابوں کا بیان اور تصدیق اس عاجز کے دعویٰ کی تھی میر صاحب نے اس عاجز کو بھی لکھے اب ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ اگر میر صاحب رسول اللہ صلعم کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں تو جو کچھ انہوں نے پہلے دیکھا وہ بہرحال اعتبار کے لائق ہوگا اور اگر وہ خوابیں ان کی اعتبار کے لائق نہیں اور اَضغَا ُث اَحْلَام میں داخل ہیں تو ایسی خوابیں آئندہ بھی قابل اعتبار نہیں ٹھہر سکتیں۔ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ رسول نمائی کا قادرانہ دعویٰ کس قدر فضول بات ہے حدیث صحیح سے ظاہر ہے کہ تمثلِ شیطان سے وہی خواب رسول بینی کی ُمبرّا ہوسکتی ہے جس میں آنحضرت صلعم کو اُن کے حُلیہ پر دیکھا گیا ہو، ورنہ شیطان کا تمثل انبیاء کے پیرایہ میں نہ صرف جائز بلکہ واقعات میں سے ہے۔اور شیطان لعین تو خدائے تعالیٰ کا تمثل اور اس کے عرش