مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 314

کے کلام میں نہیں پایا جاتا تا صالحین کو باہر رکھ لیتے اگرچہ وہ بعض روگردان ارادتمندوں کی وجہ سے بہت خوش ہیں مگر انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ٹہنی کے خشک ہوجانے سے سارا باغ بر باد نہیں ہوسکتا۔جس ٹہنی کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے خشک کردیتا ہے اور کاٹ دیتا ہے اور اس کی جگہ اور ٹہنیاں پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی پیدا کردیتا ہے بٹالوی صاحب یاد رکھیں کہ اگر اس جماعت سے ایک نکل جائے گا تو خدائے تعالیٰ اس کی جگہ بیس لائے گا اور اس آیت پر غور کریں    ۔۱؎ بالآخر ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ میر عباس علی صاحب نے ۱۲ ؍دسمبر ۱۸۹۱ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شائع کیا ہے جو ترکِ ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے سو ان الفاظ سے تو ہمیں کچھ غرض نہیں جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے لیکن اس اشتہار کی تین باتوں کا جواب دینا ضروری ہے۔اوّل۔یہ کہ میر صاحب کے دل میں دہلی کے مباحثات کا حال خلاف واقعہ جم گیا ہے سو اِس وسوسہ کے دور کرنے کے لئے میرا یہی اشتہار کافی ہے بشرطیکہ میر صاحب اس کو غور سے پڑھیں۔دوم۔یہ کہ میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا میں ایک نیچری آدمی ہوں معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوت کا مدعی اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقائد اسلام سے منہ پھیرنے والا سو ان اوہام کے دور کرنے کے لئے میں وعدہ کرچکا ہوں کہ عنقریب میری طرف سے اس بارہ میں رسالہ مستقلہ شایع ہوگا اگر میر صاحب توجہ سے اس رسالہ کو دیکھیں گے تو بشرط توفیق ازلی اپنی بے بنیاد اور بے اصل بدظنیوں سے سخت ندامت اٹھائیں گے۔سوئم۔یہ کہ میرصاحب نے اپنے اس اشتہار میں اپنے کمالات ظاہر فرماکر تحریر فرمایا ہے کہ گویا ان کو رسول نمائی کی طاقت ہے چنانچہ وہ اس اشتہار میں اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اس بارہ میں میرا مقابلہ نہیں کیا میں نے کہا تھا کہ ہم دونوں کسی ایک مسجد میں بیٹھ جائیں اور پھر یا تو مجھ کو رسول کریمؐ ۱؎ المائدۃ: ۵۵