مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 313
اس کی کیاحالت ہے۔پس خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ وہ محض اپنے فضل سے تمہارے دلوں کو حق پر قائم رکھے اور لغزش سے بچاوے اپنی استقامتوں پر بھروسہ مت کروکیا استقامت میں فاروق رضی اللہ عنہ سے کوئی بڑھ کر ہوگا جن کو ایک ساعت کے لیے ابتلا پیش آگیا تھا اور اگر خدائے تعالیٰ کا ہاتھ ان کو نہ تھامتا تو خدا جانے کیا حالت ہوجاتی۔مجھے اگرچہ میر عباس علی صاحب کی لغزش سے رنج بہت ہوا لیکن پھر میں دیکھتا ہوں کہ جب کہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نمونہ پر آیا ہوں تو یہ بھی ضرور تھا کہ میرے بعض مدعیان اخلاص کے واقعات میں بھی وہ نمونہ ظاہر ہوتا یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعض خاص دوست جو اُن کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے جن کی تعریف میں وحی الٰہی بھی نازل ہوگئی تھی آخر حضرت مسیح سے منحرف ہوگئے تھے یہودا اسکریوطی کیسا گہرا دوست حضرت مسیح کا تھا جو اکثر ایک ہی پیالہ میں حضرت مسیح کے ساتھ کھاتا اور بڑے پیار کا دم مارتا تھا جس کو بہشت کے بارھویں تخت کی خوشخبری بھی دی گئی تھی اور میاں پطرس کیسے بزرگ حواری تھے جن کی نسبت حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ آسمان کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں ہیں جن کو چاہیں بہشت میں داخل کریں اور جن کو چاہیں نہ کریںلیکن آخر میاں صاحب موصوف نے جو کرتوت دکھلائی وہ انجیل پڑھنے والوں پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہوکر اور ان کی طرف اشارہ کر کے نَعُوْذُ بِاللّٰہ بلند آواز سے کہا کہ میں اس شخص پرلعنت بھیجتا ہوں۔میر صاحب ابھی اس حد تک کہاں پہنچے ہیں کل کی کس کو خبر ہے کہ کیا ہو۔میر صاحب کی قسمت میں اگرچہ یہ لغزش مقدر تھی اور أَصْلُھَا ثَابِتٌ کی ضمیر تانیث بھی اس کی طرف ایک اشارہ کررہی تھی لیکن بٹالوی صاحب کی وسوسہ اندازی نے اور بھی میرصاحب کی حالت کو لغزش میں ڈالا میر صاحب ایک سادہ آدمی ہیں جن کو مسائل دقیقہ دین کی کچھ بھی خبر نہیں حضرت بٹالوی وغیرہ نے مفسدانہ تحریکوں سے ان کو بھڑکا دیا کہ یہ دیکھو فلاں کلمہ عقیدہ اسلام کے برخلاف اور فلاں لفظ بے ادبی کا لفظ ہے میں نے سنا ہے کہ شیخ بٹالوی اِس عاجز کے مخلصوں کی نسبت قسم کھا چکے ہیں کہ ۱؎ اور اس قدر غلو ہے کہ شیخ نجدی کا استثناء بھی ان ۱؎ الحجر:۴۰