مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 302
سکے۔اگر آپ کے ہاتھ میں ثبوت ہوتا تو آپ مجھے کب چھوڑتے۔مَیں نے غیرت دلانے والے لفظ بھی سراسر نیک نیتی سے استعمال کئے اور اب بھی کر رہا ہوں مگر آپ کوکچھ شر م نہ آئی۔میں نے یہ بھی لکھ بھیجا کہ حضرت مجھے اجازت دیجئے اورا پنی خاص تحریر سے مجھے اشارہ فرمائیے تو میں آپ ہی کے مکان پر حاضر ہو جائوں گا اور مسئلہ حیات و وفات مسیح میں تحریری طور پر آپ سے بحث کروں گا اور مَیں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر میں اپنے اس الہام میں غلطی پر نکلا اور آپ نے نصوص صریحہ بیّنہ قطعیہ سے مسیح ابن مریم کی جسمانی حیات کو ثابت کر دکھایا تو تمام عالم گواہ رہے کہ میں اپنے اس دعوے سے دستبردار ہو جائوں گا۔اپنے قول سے رجوع کروں گا۔اپنے الہام کو اَضْغَا ُ ث اَحْلَام قرار دے دوں گا اور اپنے اس مضمون کی کتابوں کو جلا دوں گا۔اورمیں نے اللہجَلَّ شَانُـہٗ کی قسم بھی کھائی کہ درحالت ثبوت مل جانے کے میں ایسا ہی کروں گا، لیکن اے حضرت شیخ الکل! آپ نے میری طرف تو نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔میں مسافر تھا۔آپ نے میری تکالیف کا بھی خیال نہ فرمایا۔میں آپ ہی کے لیے دہلی میں اس مدت تک ٹھہرا رہا۔آپ نے میری طر ف ذرا رُخ نہ کیا۔عوام کو میری تکفیر کا فتویٰ سُنا کر فتنہ انگیز ملّائوں کی طرح بھڑکا دیا۔مگر اپنے اسلام اور تقویٰ کا تو کوئی نشان نہ دکھلایا۔آپ خوب یاد رکھیں کہ ایک دن عدالت کا دن بھی ہے۔ان تمام حرکات کااس دن آپ سے مواخذہ ہو گا۔اگر مَیں دہلی میں نہ آیا ہوتا اور اس قدر قسمیں دے کر اور عہد پر عہد کر کے آپ سے بحث کا مطالبہ نہ کرتا تو شاید آپ کا اس انکار میں ایسا بڑا گناہ نہ ہوتا۔لیکن اب تو آپ کے پاس کوئی عذر نہیں۔اور تمام دہلی کا گنہ آپ ہی کی گردن پر ہے۔اگر شیخ بٹالوی اور مولوی عبد المجید نہ ہوتے تو شاید آپ راہ پر آسکتے لیکن آپ کی بدقسمتی سے ہر وقت ان دونوں کی آپ پر نگرانی رہی۔مَیں تو مسافرہو ں۔ا ب انشاء اللہ تعالیٰ اپنے وطن کی طر ف جائوں گا۔آپ کی برانگیخت سے بہت سے لعن طعن اور گندی گالیاں دہلی والوں سے سُن چکا۔اور آپ کے اُن دونوں رشید شاگردوں نے کوئی دقیقہ لعن طعن کا اُٹھا نہ رکھا، مگر آپ کو یاد رہے کہ آپ نے اپنے خداداد علم پر عمل نہیں کیا، اور حق کو چھپایا اور تقویٰ کے طریق کو بالکل چھوڑ دیا۔انسان اگر تقویٰ کی راہوں کو چھوڑ دے تو وہ چیز ہی کیا ہے مومن کی ساری عظمت اوربزرگی تقویٰ سے