مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 303

ہے۔شریر آدمی چالاکی سے جو کچھ چاہتا ہے بغیر کسی قطعی ثبوت کے مُنہ پر لاتا ہے، مگر عادل حقیقی کہتا ہے کہ اے عمداً کجی کے اختیار کرنے والے! آخر مرنے کے بعد تو میری ہی طرف آئے گا اور مَیں تیرے ساتھ کوئی دوسرا حمایتی نہیں دیکھتا۔تیری باتوں کا ثبوت تجھ سے پوچھا جائے گا۔سو اَے شیخ الکل! اُس دن سے ڈر جس دن ہاتھ اور پیر گواہی دیں گے اور دل کے خیال مخفی نہیں رہیں گے۔اے غافل مغرور! تو کیوں اپنے ربّ کریم سے نہیں ڈرتا۔تیرے پاس مسیح ابن مریم کے بجسدہ العنصری اُٹھائے جانے کا کون سا ثبوت ہے تو کیوں اسے پیش نہیں کرتا۔ہائے تو اپنے دل کی حالت کو کیوں چھپاتا ہے۔اَے شیخ !سفر نزدیک ہے۔میں محض نیک نیتی سے اور اخلاص سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ کہتا ہوں۔میرا خدا اس وقت دیکھ رہا ہے اور سُن رہا ہے اور میرے دل پر نظر ڈال رہا ہے۔بخدا میرے پر ثابت ہو چکا ہے کہ آپ نے محض مولویانہ ننگ و ناموس کی وجہ سے سچی گواہی نہیں دی اور باطل سے دوستی کی اور حق سے دشمنی۔اور آپ نے دہلی والوں کو حق پوشی کی وجہ سے سخت بے باک کر دیا۔یہاں تک کہ بعض نے تمسخر اورٹھٹھے کی راہ سے میرے مقابلہ پر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور چند اشتہار شائع کر دئیے۔جن میں بعض کے اندر حد سے زیادہ آپ کی تعریف تھی جس پر نظر ڈالنے سے قوی شک گزرتا تھا کہ وہ اشتہارات آپ ہی کے اشارہ سے لکھے گئے ہیں۔ان اشتہاروں میں یہ کوشش کی گئی تھی کہ اوباشانہ باتوں سے نوراللہ کو منطفی کر دیا جائے، مگر یہ کوشش کچھ نئی نہیں۔قدیم سے یہ دستور ہے کہ جو لوگ حق کے دشمن ہیں وہ سچائی کے نوروں کو بجھانے کے لیے ہر ایک قسم کے مکر کیا کرتے ہیں۔آخر حق ظاہر ہو جاتا ہے۔اور وہ کراہت ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔انسان کا اپنا تراشا ہوا کام نہیں چل سکتا۔بلکہ ایسی جماعت جلد متفرق ہو جاتی ہے لیکن جو سلسلہ آسمان اور زمین کے بنانے والے کی طرف سے ہوتا ہے۔کوئی ہے جو اس کو نابود کر سکے؟ سو اَے شیخ الکل! تو کیوں تیز تلوار پر ہاتھ مار رہا ہے۔کیا تجھے اپنے ہاتھ کا اندیشہ نہیں۔خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔اگرچہ تُو اُسے نہیں دیکھتا۔اپنے علم سے بڑھ کر کیوں زیادہ دلیری کرتا ہے۔کچھ خوف کر لَمَقْتُ اللّٰہِ اَکْبَرُ مِنْ مَّقْتِکُمْ۔اے ٹھٹھا کرنے والو! اور تمسخر سے افترا کرنے والو! اور بے باکی سے کہنے والو کہ مسیح موعود تو