مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 301
لکھواتے؟ پھر خدا تعالیٰ کی عدالت سے کیوں نہ ڈرے۔ایک دن مرنا ہے یا نہیں؟ غضب کی بات ہے کہ نام شیخ الکل اور کرتوت یہ۔اے شیخ الکل! بھلا آپ انصافاً فرماویں کہ آپ اس جرم کے مرتکب ہوئے یا نہیں کہ آپ نے کتاب اللہ کے اُس حکم کو چھپایا جس کے ظاہر کرنے کے لیے تاکید کی گئی تھی۔اگر مثلاً عدالت برطانیہ سے اسی امر کے دریافت کے لیے آپ کے نام سمن جاری ہوتا اور درحالت اخفائے شہادت کسی قانونی سزا کی دھمکی بھی دی جاتی توکیا آپ اپنا بیان لکھوانے سے انکار کرتے یا یہ کہتے کہ میں نہیں جائوں گا۔بٹالوی شیخ کو لے جائو یا مولوی عبد المجید کی شہادت قلمبند کر لو۔آپ کو عدالت ربّانی سے کیوں اس قدر استغنا ہے۔ہم توآپ کے منہ کو دیکھتے دیکھتے تھک بھی گئے۔آپ ۲۰؍ اکتوبر کے جلسہ میں بھی آئے تو کیا خاک آئے۔آتے ہی بحث سے انکار کر دیا اور حسبِ منشاء اشتہار قسم کھا نے سے گریز کی اور اخفاء شہادت کا کبیرہ گناہ ناحق اپنے ذمہ لے لیا۔اشتہار ۱۳؍ ربیع الاوّل میں جو آپ کی طر ف سے جاری ہوا ہے۔حوا س کی خوب تعریف لکھی ہے کہ بدیں پیرانہ سالی تمام قویٰ نہایت عمدہ ہیں اورہاتھ پیروں کی قوت اور آنکھوں کی بینائی قابل تعریف ہے۔ہر ایک مرض سے بفضلہ تعالیٰ امن ہے۔پھر جس حالت میں ایسی عمدہ صحت ہے اور تمام قویٰ تعریف کے لائق ہیں تو پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ بحث سے گریز کیوں ہے۔کیا ناظرین آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں؟ اے شیخ الکل اُس خدائے عزّوجل سے ڈر جو تیرے دل کو دیکھ رہا ہے۔جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ فَھُوَ ذَنْبُکَ یعنی جو کام تیرے دل پر قبض وارد کرے اور تیرا دل اس کے کرنے سے رُکتا ہو اور وہی کام تو کر بیٹھے تو وہ تیر اگناہ ہے۔اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انکار وفات مسیح کے بارے میں اگر آپ کے دل میں ایک قبض نہ ہوتی تو آپ ضرور علانیہ بحث کرنے کے لیے تیار ہو جاتے، لیکن یوں تو آپ نے گھر میں لاف و گزاف کے طور پر بارہا کہا کہ مسیح ابن مریم بجسدہ العنصری زندہ ہے۔یہی قرآن اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ میرے بعض مخلص جو آپ کے پاس گئے تو انہوں نے بھی آ پ کی ان بے اصل لافوں کا ذکر کیا، لیکن چونکہ صرف یہ زبان کی فضول باتیں تھیں۔اور محض دروغ بے فروغ تھا اور دل پر قبض اور نومیدی تھی۔اس لیے آپ بحث کرنے کے لیے پیش قدمی نہ کر سکے۔