مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 296
اور نیز پبلک کو سُنا دوں گا۔اور ایک نقل اس کی علی گڑھ بھی لے جائوں گا تب مَیں نے مفصّل طور پر اس بارے میں ایک پرچہ لکھ دیا جو بطور نوٹ درج ذیل ہے اور خواجہ صاحب نے وہ تمام مضمون صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلند آواز سُنایا اور تمام معزز حاضرین نے جو نزدیک تھے سُن لیا۔ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ واضح ہو کہ اختلافی مسئلہ جس پر میں بحث کرنا چاہتا ہوں۔صرف یہی ہے کہ یہ دعویٰ جو حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔میرے نزدیک ثابت نہیں ہے اور نصوص قرآنیہ و حدیثیہ میں سے ایک بھی آیت صریحۃ الدلالۃ اور قطعیۃ الدلالت یا ایک بھی حدیث صحیح مرفوع متصل نہیں مل سکتی جس سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہو سکے بلکہ جابجا قرآن کریم کی آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے وفات ہی ثابت ہوتی ہے۔اور میں اس وقت اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی سیّد محمد نذیر حسین صاحب حیات حضرت مسیح علیہ السلام کی آیات صریحۃ الدلالۃ اور قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے ثابت کر دیں۔تو میں دوسرے دعوے مسیح موعود ہونے سے خود دست بردار ہو جائوں گا اور مولوی صاحب کے سامنے توبہ کروں گا۔بلکہ اس مضمون کی تمام کتابیں جلا دوں گا، اور دوسرے الزامات جو میرے پر لگائے جاتے ہیں کہ یہ شخص لیلۃ القدر کا منکر ہے اور معجزات کا انکاری اور معراج کا منکر اور نیز نبوت کا مدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے یہ سارے الزامات باطل اور دروغ محض ہیں۔ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔اور میری کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام سے جو ایسے اعتراض نکالے گئے ہیں۔یہ نکتہ چینوں کی سراسر غلطی ہے۔اب مَیں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانۂ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں۔اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ایسا ہی میں ملائکہ اور معجزات اور لیلۃ القدر وغیرہ کا قائل ہوں اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ جو کچھ بدفہمی سے بعض کوتہ فہم لوگوں نے سمجھ لیا ہے ان اوہام کے ازالہ کے لیے عنقریب ایک مستقل رسالہ تالیف کر کے شایع کروں گا۔غرض میری نسبت جو بجز میرے دعویٰ وفات مسیح اور مثیل مسیح ہونے کے اور اعتراض تراشے گئے ہیں وہ سب غلط اور ہیچ اور صرف غلط فہمی کی وجہ سے کئے گئے ہیں۔پھر بعداس کے خواجہ صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ جب کہ ان عقائد میں درحقیقت کوئی