مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 295

لطائف اسرار کے ساتھ وہی عقائد اہلِ سنت ہیں۔کوئی دوسرا امر نہیں۔صرف معترضین کی آنکھوں پر غبار ہے جو خویش کو اجنبی کی صورت پر دیکھتے ہیں اور موافق کلی کو مغائر کلی خیال کرتے ہیں۔اور بار بار یہ بھی کہا گیا کہ جس حالت میں مَیں نے اشتہار بھی شائع کر دیا ہے کہ ان عقائد سے انکار کرنا میرا مذہب نہیں ہے بلکہ منکر کو میں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔تو پھر میں ان عقائد مسلّمہ میں بحث کیا کروں۔بحث تو اختلاف کی حالت میں ہوتی ہے نہ اتفاق کی حالت میں۔سو تم مسلّمات فریقین میں خواہ مخواہ کی گفتگو نہ کرو۔اس بات میں بحث کرو جس میں مجھے تمہارے عقیدہ موجودہ سے مخالفت ہے۔یعنی صعودونزول مسیح ابن مریم بجسدہ العنصری میں۔لیکن حضرت شیخ الکل صاحب اپنی اِس ضدسے باز نہ آئے اوربحث حیات و وفات مسیح سے صاف صاف انکار کرتے رہے۔آخر ان کی اس ضِد اور اصرار سے فہیم لوگوں نے سمجھ لیا کہ حضر ت کے پاس حیات جسمانی حضرت مسیح ابن مریم پر کوئی دلیل نہیں اور نہ وہ دلائل وفات ابن مریم کو ردّ کر سکتے ہیں۔اور رعب حق کی وجہ سے حسب شرائط اشتہار قسم کھانے کے لیے بھی جرأت نہیں۔تب صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے اس کشمکش سے تنگ آ کر اور لوگوں کی ایک وحشیانہ حالت اور نیز کثرت عوام دیکھ کر خیال کیا کہ اب دیر تک انتظار کرنا اچھا نہیں۔لہٰذا عوام کی جماعت کو متفرق کرنے کے لیے حکم سُنا دیا گیا کہ چلے جائو۔بحث نہیں ہو گی۔یہ وہ واقعات ہیں جو صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور نیز ان کے معزز ماتحت انسپکٹر صاحب خود درمیان میں کھڑے ہو کر سُن چکے ہیں۔اس جلسۂ بحث میں خواجہ محمد یو سف صاحب رئیس و وکیل و آنریری مجسٹریٹ علی گڑھ بھی موجود تھے۔اور یہ ایک حُسن اتفاق تھاکہ ایک ایسا ثِقہ آدمی اس جلسہ میں شامل ہو گیا۔غرض خواجہ صاحب نے بھی فریق ثانی کے بے ہودہ عذرات سُن کر میری طر ف توجہ کی اور کہا کہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ برخلاف عقیدہ اہلِ سنت و الجماعت۔لیلۃ القدر اور معجزات اور ملایک اور معراج وغیرہ سے منکر اور نبوت کے مدعی ہیں۔میں نے کہا یہ سراسر میرے پر افتراء ہے۔مَیں ان سب باتوں کا قائل ہوں۔اور ان لوگوں نے میری کتابوں کا منشاء نہیں سمجھا۔اور غلط فہمی سے مجھ کو منکر عقائد اہل سنت کا قرار دے دیا۔تب انہوں نے کہاکہ بہت اچھا۔اگر فی الحقیقت یہی بات تو مجھے ایک پرچہ پر یہ سب باتیں لکھ دیں۔میں ابھی صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو