مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 293
کافقط حاضر ہونا اس داغ سے محفوظ رہنے کے لیے کافی نہ تھابلکہ اس کے ساتھ یہ بھی توضرور تھاکہ وہ اصل مقصد حاضری کو جو مباحثہ تھا۔نیک نیّتی کے ساتھ مدِّنظر رکھ کر بلاتوقف اِظْہَارًا لِلْحَقّمسئلہ وفات و حیات مسیح میں ا س عاجز سے بحث کرتے اور حاضرین کو جوشوق سے آئے تھے دکھلاتے کہ حیات مسیح ابن مریم پر کون سے قطعی اور یقینی دلائل ان کے پاس موجود ہیں اور نیز براہین وفات مسیح کے بارے میں کیا کیا تسلّی بخش جوابات اُن کے پاس ہیں، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔کیوں نہیں کیا؟ اس کا یہی باعث تھے کہ وہ تہی دست محض تھا۔جس حال میں قرآن کریم اوراحادیث صحیحہ نبویہ میں حیات جسمانی مسیح ابن مریم کے بارے میں ایک ذرّہ یقینی اور قطعی ثبوت نہیں ملتا اور وفات مسیح پر اس قدر ثبوت قرآن کریم اور احادیث نبویّہ میں موجود ہیں جو چمکتے ہوئے نُور کی طرح دل کو تسلّی اور اطمینان کی روشنی بخشتے ہیں۔پھر حضرت شیخ الکل صاحب حیات مسیح ابن مریم پر کون سی دلیل لاتے اور کہاں سے لاتے۔پس یہی وجہ تھی کہ وہ ایسے چُپ ہوئے کہ گویا قالب میں جان نہیں یاجسم میں دم نہیں۔اس نازک وقت میں جب اُن سے دمبدم یہ مطالبہ ہو رہا تھا کہ اگر آپ یہ عقیدہ مسیح کی حیات جسمانی کا درحقیقت صحیح اور یقینی اور آیات قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے ثابت کر دیں تو ہم اس ایک ہی ثبوت سے تمام دعوے چھوڑ دیتے ہیں۔آئیے وہ ثبوت پیش کیجئے۔شیخ الکل کی وہ حالت محسوس ہوتی تھی کہ گویا اس وقت جان کندن کی حالت ان پر طاری تھی۔اس جلسہ میں تخمیناً پانچ ہزار سے کچھ زیادہ آدمی ہوں گے اور شہر کے معزّز اور رئیس بھی موجود تھے اور سرکار انگریزی کی طرف سے امن قائم رکھنے کے لیے ایسا احسن انتظام ہو گیا تھا کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔صاحب سٹی سپریٹنڈنٹ پولیس یورپین مع انسپکٹر صاحب اور ایک کافی جماعت پولیس کی موقع جلسہ پر جو جامع مسجددہلی تھی، تشریف لے آئے تھے اور ایک طور اور پہلو سے حفظ امن کے مراتب اپنے ہاتھ میں لے کر اس بات کے منتظر تھے کہ اب فریقین تہذیب اور شائستگی سے بحث شروع کر یں اس وقت تاکیداً و اتماماً للحجّۃ حضرت شیخ الکل صاحب کی خدمت میں جو ایک گوشہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔مَیں نے یہ رقعہ بھیجا کہ میں موجود ہوں۔اب آپ جیسا کہ اشتہار ۱۷؍۱؎ اکتوبر ۱۸۹۱ء میں میری طر ف سے شائع ہو چکا ۱؎ اشتہار جلد ہٰذا کے صفحہ۲۸۳ پرہے۔(مرتب )