مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 284
کی وجہ سے ہزارہا مسلمانوں میں بد ظنی کا فتنہ برپا ہو گیا ہے۔لہٰذا آپ پر فرض ہے کہ مجھ سے اس بات کا تصفیہ کر لیں کہ آیا ایسا عقیدہ رکھنے میں مَیں نے قرآن اور حدیث کو چھوڑ دیا ہے یا آپ ہی چھوڑ بیٹھے ہیں۔اور اس قدر تو خود مَیں مانتا ہوں کہ اگر میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا مخالف نصوص بیّنہ قرآن و حدیث ہے اور دراصل حضرت عیسیٰ ابن مریم آسمان پر زندہ بحسدہِ العنصری موجود ہیں جو پھر کسی وقت زمین پر اُتریں گے تو گو یہ میرا دعویٰ ہزار الہام سے مؤیّد اور تائید یافتہ ہو اور گو نہ صرف ایک نشان بلکہ لاکھ آسمانی نشان اس کی تائید میں دکھائوں تاہم وہ سب ہیچ ہے۔کیونکہ کوئی امر اورکوئی دعویٰ اور کوئی نشان مخالف قرآن اور احادیث صحیحہ مرفوعہ ہونے کی حالت میں قابل قبول نہیں۔اور صرف اس قدر مانتا ہوں بلکہ اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر آپ یا حضرت!! ایک جلسہئِ بحث مقر ر کر کے میرے دلائل پیش کردہ جو صرف قرآن اور احادیث صحیحہ کی رُو سے بیان کروں گا توڑ دیں اور ان سے بہتر دلائل حیات مسیح ابن مریم پر پیش کریں اور آیات صریحیہ بیّنہ قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ کے منطوق سے حضرت مسیح ابن مریم کا بجسدہ العنصری زندہ ہونا ثابت کر دیں تو مَیں آپ کے ہاتھ پر توبہ کروں گا اور تمام کتابیں جو اس مسئلے کے متعلق تالیف کی ہیں جس قدر میرے گھر میں موجود ہیں سب جلا دوں گا اور بذریعہ اخبارات اپنی توبہ اور رجوع کے بارے میں عام اطلاع دے دوں گا۔وَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی کَاذِبٍ یَخْفٰی فِیْ قَلْبِہٖ مَا یَخَافُ بَیَانَ لِسَانِہٖ۔مگر یہ بھی یاد رکھیئے کہ اگر آپ مغلوب ہو گئے اور کوئی صریحۃ الدلالت آیت اور حدیث صحیح مرفوع متصل پیش نہ کر سکے تو آپ کو بھی اپنے اس انکار شدید سے توبہ کرنی پڑے گی۔وَ اللّٰہُ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ۔اب میں یا حضرت!! آپ کو اُس ربّ جلیل تعالیٰ و تقدس کی قسم دیتا ہوں۔جس نے آپ کو پیدا کر کے اپنی بے شمار نعمتوں سے ممنون فرمایا کہ اگر آپ کا یہی مذہب ہے کہ قرآن کریم میں مسیح ابن مریم کی زندگی کے بارے میں آیات صریحہ بیّنہ قطعیۃ الدلالت موجود ہیں اور ان کی تائید میں احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ اپنے منطوق سے شہادت دیتی ہیں جن کی وجہ سے آپ کو میرے الہامی دعوے کی نسبت مومنانہ حُسن ظنّ کو الوداع کہہ کر سخت انکار کرنا پڑا تو اس خداوند کریم سے ڈر کر جس کی میں نے ابھی آپ کو قسم دی ہے