مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 264

بَعَثَہٗ۔توایسے شخص کو بھی بلا توقف ہزار روپیہ نقددیاجاوے گا۔۱؎ المشــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر خاکسار ـغلام احمد از لودھیانہ محلہ اقبال گنج (یہ اشتہار ازالہ اوہام حصہ دوم بار اوّل مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر کے صفحہ ۹۱۷ تا ۹۲۱پر ہے) (روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۶۰۲ تا ۶۰۵) ۱؎ نوٹ۔فوت کے بعد زندہ کرنے کے متعلق جس قدر قرآن کریم میں آیتیں ہیں کوئی ان میں سے حقیقی موت پر محمول نہیں ہے اور حقیقی موت کے ماننے سے نہ صرف اس جگہ یہ لازم آتا ہے کہ وہ آیتیں قرآن کریم کی اُن سولہ۱۶ آیتوں اور ان تمام حدیثوں سے مخالف ٹھہرتی ہیں جن میں یہ لکھا ہے کہ کوئی شخص مرنے کے بعد پھر دنیا میں نہیں بھیجا جاتا بلکہ علاوہ اس کے یہ فساد بھی لازم آتا ہے کہ جان ُکندن اور حسابِ قبر اور رَفَعْ اِلَی السَّمَآء جو صرف ایک دفعہ ہونا چاہیے تھا دو دفعہ ماننا پڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اب شخص فوت شدہ حسابِ قبر کے بعد قیامت میں اُٹھے گا کذب صریح ٹھہرتا ہے۔اور اگر ان آیتوں میں حقیقی موت مراد نہ لیں تو کوئی نقص لازم نہیں آتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے یہ بعید نہیں کہ موت کے مشابہ ایک مدت تک کسی پر کوئی حالت بے ہوشی وارد کر کے پھر اس کو زندہ کردیوے مگر وہ حقیقی موت نہ ہو۔اور سچ تو یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی جاندار پر حقیقی موت وارد نہ کرے وہ مرنہیں سکتا اگرچہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جاوے۔۔۱؎ ۔۲؎ منہ ۱؎ البقرۃ: ۱۰۷ ۲؎ اٰلِ عمران: ۱۴۶