مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 263

نسبت آیا ہے اس کے معنی پورا لینے کے ہیں یعنی جسم اور روح کو بہ ہیئت کذائی زندہ ہی اٹھا لینا اور وجود مرکب جسم اور روح میں سے کوئی حصہ متروک نہ چھوڑنا۔بلکہ سب کو بحیثیت کذائی اپنے قبضہ میں زندہ اورصحیح سلامت لے لینا۔سو اسی معنی سے انکارکر کے یہ شرطی اشتہار ہے۔ایسا ہی محض نفسانیت اور عدمِ واقفیت کی راہ سے مولوی محمد حسین صاحب نے اَلدَّجَّال کے لفظ کی نسبت جو بخاری اورمسلم میں جا بجا دجّال معہود کا ایک نام ٹھہرایا گیا ہے یہ دعویٰ کردیاہے کہ اَلدَّجَّال دجّال معہود کاخاص طور پر نام نہیں بلکہ ان کتابوں میں یہ لفظ دوسرے دجّالوں کے لئے بھی مستعمل ہے اور اس دعوے کے وقت اپنی حدیث دانی کا بھی ایک لمبا چوڑا دعویٰ کیا ہے۔سو اس وسیع معنے اَلدَّجَّال سے انکار کر کے اور یہ دعویٰ کر کے کہ یہ لفظ اَلدّجّال کا صرف دجّال معہود کے لئے آیا ہے او ربطور عَلم کے اس کے لئے مقرر ہوگیاہے۔یہ شرطی اشتہار جاری کیا گیاہے۔مولوی محمد حسین صاحب اوراُن کے ہم خیال علماء نے لفظ تَوَفّی اوراَلدَّجَّالکی نسبت اپنے دعویٰ متذکرہ بالا کو بپایہ ثبوت پہنچادیا تو و ہ ہزارروپیہ لینے کے مستحق ٹھہریں گے اورنیز عام طورپریہ عاجز یہ اقرار بھی چند اخباروں میں شائع کردے گا کہ درحقیقت مولوی محمد حسین صاحب اوراُن کے ہم خیال فاضل اور واقعی طور پر محدّث اور مفسر اور رموز اوردقائق قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے سمجھنے والے ہیں۔اگر ثابت نہ کرسکے تو پھر یہ ثابت ہوجائے گا کہ یہ لوگ دقائق وحقائق بلکہ سطحی معنوں قرآن اورحدیث کے سمجھنے سے بھی قاصراور سراسر غبی اور بلید ہیں اور در پردہ اللہ اور رسول کے دشمن ہیں کہ محض الحادکی راہ سے واقعی اور حقیقی معنوں کو ترک کرکے اپنے گھر کے ایک نئے معنے گھڑتے ہیں۔ایسا ہی اگر کوئی یہ ثابت کر دکھاوے کہ قرآن کریم کی وہ آیتیں اور احادیث جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی مردہ دنیا میں واپس نہیں آئے گاقطعیۃ الدلالت نہیں اور نیز بجائے لفظ موت اوراماتت کے جو متعدد المعنی ہے اور نیند اور بے ہوشی اور کفر اور ضلالت اور قریب الموت ہونے کے معنوں میں بھی آیا ہے۔تَوَفّی کا لفظ کہیں دکھاوے مثلًا یہ کہ تَوَفَّاہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ۔