مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 262
یعنی یہ کہ روح کے ساتھ جسم کو بھی لے لینا۔مگر ایسے معنے کرنا اُن کا سراسر افترا ہے۔قرآن کریم کا عموماً التزام کے ساتھ اس لفظ کے بارہ میں یہ محاورہ ہے کہ وہ لفظ قبض روح اور وفات دینے کے معنوں پر ہریک جگہ اس کو استعمال کرتاہے۔یہی محاورہ تمام حدیثوں اور جمیع اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتاہے۔جب سے دنیا میں عرب کا جزیرہ آباد ہواہے اور زبان عربی جاری ہوئی ہے کسی قول قدیم یاجدید سے ثابت نہیں ہوتا کہ تَوَفّٰی کا لفظ کبھی قبض جسم کی نسبت استعمال کیاگیاہوبلکہ جہاں کہیں تَوَفّٰی کے لفظ کو خدائے تعالیٰ کا فعل ٹھہرا کر انسان کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ صرف وفات دینے اور قبض روح کے معنی پر آیاہے نہ قبض جسم کے معنوں میں۔کوئی کتاب لغت کی اس کے مخالف نہیں۔کوئی مثل اور قول اہل زبان کا اس کے مغائر نہیں غرض ایک ذرہ احتمال مخالف کی گنجائش نہیں۔اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ صلعم سے یااشعار وقصائد و نظم ونثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ تَوَفّٰیکا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجُز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پاگیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللّٰہ جَلَّ شَانُـہٗ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتاہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آیندہ اس کے کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرارکرلوں گا۔ایسا ہی اگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یا کوئی ان کا ہم خیال یہ ثابت کردیوے کہ اَلدَّجَّال کا لفظ جو بخاری اور مسلم میں آیا ہے بجُز دجّالِ معہود کے کسی اور دجّال کے لئے بھی استعمال کیا گیاہے تو مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں ایسے شخص کو بھی جس طرح ممکن ہو ہزار روپیہ نقد بطور تاوان کے دوں گا۔چاہیں تو مجھ سے رجسٹری کرالیں یا تمسک لکھا لیں۔اس اشتہار کے مخاطب خاص طور پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہیں جنہوں نے غرور اور تکبر کی راہ سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تَوَفّٰی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی