مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 250

ایسے بھول گئے کہ گویا ان سب باتوں کے کرنے کے لئے ان کو بالکل آزادی تھی۔اس بے حواسی کے بے طرح جوش کا یہی سبب تھا کہ مولوی صاحب اپنا ۷۶ صفحہ کا مضمون سُنا کر یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ لاجواب مضمون ہے بلکہ مغروری کی راہ سے بعض جگہ اپنی فتح کے خط بھی بھیج دیئے تھے۔اب جو عصائے موسیٰ کی طرح اس عاجز کے مضمون نے مولوی صاحب کی تمام ساحرانہ کارروائی کو باطل کر دیا۔تو یک دفعہ ان کے دل پر وہ زلزلہ آیا جس کی کیفیت خدا تعالیٰ کے بعد وہی جانتے ہوں گے۔سو یہ تمام حرکات جو ان سے سرزد ہوئیں۔ایک قسم کی بیہوشی کی وجہ سے تھیں جو اس وقت ان پر طاری ہو گئی تھی۔بہرحال وہ شرائط شکنی کے بعد اس بات کے مستحق نہ رہے کہ انہیں مضمون ۳۱؍ جولائی ۱۸۹۱ء کی نقل دی جاتی۔اور یاد رہے کہ ان کے ۷۶ صفحے کے مضمون میں بجز بے تعلق باتوں اور بدزبانی اور افترا کے اور خاک بھی نہیں تھا۔اور بدزبانی سے یہاں تک انہوں نے کام لیا کہ ناحق بے وجہ امام بزرگ حضرت فخر الائمہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی شان بلند میں سخت تحقیر کے الفاظ استعمال کئے۔بالآخر میں ایک دفعہ پھر حجت پوری کرنے کے لیے بآواز بلند مولوی صاحب کو دعوت کرتا ہوں کہ وہ اصل مسئلہ کے متعلق ضرور بصد ضرور میرے ساتھ بحث کریں۔مگر یہ بحث لاہور جیسے صدر مقام میں منعقد کی جائے جہاں اعلیٰ درجہ کے فہیم ذکی تعلیم یافتہ متین اشخاص اور رئوساء شامل ہو سکتے ہیں۔اور مولوی صاحب کو غیر متعلق گفتگو چھیڑنے اور خلط مبحث کرنے اور انہیں بد زبانی اور خلاف تہذیب کلمات منہ سے نکالنے اور کسی شرط مقررہ کو توڑنے سے روکنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔نیز اُن میں سے بعض نے یہ درخواست بھی کی ہے۔امن وغیرہ کا انتظام بھی ہمارے سپرد ہو گا۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی ضروری نوٹ۔اب مولوی صاحب اپنے کارخانہ کی ترقی کے لیے بہتانوں پر آ گئے ہیں۔منجملہ ان کے ایک بڑا بہتان یہ لگایا ہے کہ گویا ’’میں صحیح بخاری اور مسلم کا منکر ہوں‘‘ اس کے جواب میں بجز علے الکاذبین اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ہر ایک مسلمان پر واضح رہے کہ بسر و چشم صحیحین کو مانتا ہوں۔ہاں کتاب اللہ