مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 247
اشتہار واجب الاظہار مولوی محمد حسین صاحب کے مباحثہ کا کیا انجام ہوا عھد را بشکست و پیمان نیزھم مولوی محمد حسین صاحب کے سوالات کے جواب میں ۳۱؍ جولائی ۱۸۹۱ء کو بروز جمعہ کے اس عاجز نے ایک قطعی فیصلہ کرنے والا مضمون سُنایا جس کو سنتے ہی مولوی صاحب کے چھکّے چھوٹ گئے اور تمام سمجھ دار اور منصف مزاج لوگوں نے معلوم کر لیا کہ مولوی صاحب کا سارا تانا بانا بیک دفعہ ٹوٹ گیا۔اس لیے مولوی صاحب کو مضمون سُننے کی حالت میں یہی دھڑکا دل میں شروع ہوا کہ اب توہمارے اعتراضات کی ساری قلعی کھل گئی۔ناچار خلاف ورزی شرائط کر کے ان چھوٹے ہتھیاروں پر آ گئے جن کو آج کل کے مولوی مُلّاں لاجواب ہونے کی حالت میں استعمال کیا کرتے ہیں۔ناظرین کو واضح ہو کہ مولوی صاحب کے ساتھ تحریری طور پر یہ شرطیں ٹھہر چکی تھیں (۱) اوّل یہ کہ فریقین صرف تحریری طور پر اپنا سوال یا جواب لکھیں (۲) دوم یہ کہ جب کوئی فریق اپنی تحریر کو سنانے لگے تو فریق ثانی اس کے سنانے کے وقت دخل نہ دیوے اور کوئی بات منہ سے نہ نکالے۔(۳) تیسرے یہ کہ بیان سننے کے بعد کوئی فریق زبانی جواب دینا شروع نہ کرے، لیکن افسوس کہ مولوی صاحب نے مضمون سُنتے ہی ان تینوں شرطوں کو توڑ دیا اور عہد شکنی کے بعد ایک جوش کی حالت میں کھڑے ہو کر بے جا اور غیر مہذب