مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 210

  نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ گزارش ضروری بخدمت ان تمام صاحبوں کے جو بیعت کرنے کیلئے مستعد ہیں اے اخوان مومنین (اَیَّدَکُمُ اللّٰہُ بِرُوْحٍ مِّنْہُ) آپ سب صاحبوں پر جو اس عاجز سے خالصاً لطلب اللہ بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۱؎ واضح ہو کہ بالقائے ربِّ کریم وجلیل جس کا ارادہ ہے کہ ۱؎ تاریخ ہذا سے جو ۴؍ مارچ ۱۸۸۹ء ہے۔۲۵؍ مارچ تک یہ عاجز لودیانہ محلہ جدید میں مقیم ہے اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لودیانہ میں ۲۰؍ تاریخ کے بعد آ جاویں۔اور اگر اس جگہ آنا موجب حرج و دقت ہو تو ۲۵؍مارچ کے بعد جس وقت کوئی چاہے قادیان میں بعد اطلاع دہی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہو جاوے مگر جس مدعا کے لیے بیعت ہے یعنی حقیقی تقویٰ اختیار کرنا اور سچا مسلمان بننے کے لیے کوشش کرنا، اس مدعا کو خوب یاد رکھے اور اس وہم میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اگر تقویٰ اور سچا مسلمان بننا پہلے ہی سے شرط ہے تو پھر بعد اس کے بیعت کی کیا حاجت ہے۔بلکہ یاد رکھنا چاہیے کہ بیعت اس غرض سے ہے کہ تا وہ تقویٰ جو اوّل حالت میں تکلّف اور تصنّع سے اختیار کی جاتی ہے دوسرا رنگ پکڑے اور ببرکت توجہ صادقین و جذبہ کاملین طبیعت میں داخل ہو جائے اور اُس کا جُز بن جائے اور وہ مشکوٰتی نُور دل میں پیدا ہو جائے کہ جو عبودیّت اور ربوبیّت کے باہم تعلق شدید سے پیدا ہوتا ہے۔جس کو متصوّفین دوسرے لفظوں میں رُوحِ قُدس بھی کہتے ہیں جس کے پیدا ہونے کے بعد خدائے تعالیٰ کی نا فرمانی ایسی بالطبع بُری معلوم ہوتی ہے جیسے وہ خود خدائے تعالیٰ کی نظر میں بُری و مکروہ ہے۔اور نہ صرف خلق اللہ سے انقطاع میّسر آتا ہے بلکہ بجُز خالق و مالک حقیقی ہریک موجود کو کالعدم سمجھ کر فنا نظری کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔سو اس نُور کے پیدا ہونے کے لیے ابتدائی اتقاء جس کو طالبِ صادق اپنے ساتھ لاتا ہے شرط ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی علّتِ غائی