مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 207
ششم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلّی اپنے سر پر قبول کر لے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہریک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔ہفتم یہ کہ تکبّر اور نخوت کو بکلّی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔ہشتم یہ کہ دین اور دین کی عزّت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزّت اور اپنی اولاد اور اپنے ہریک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔دہم یہ کہ اس عاجز سے عقدِ اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔یہ وہ شرائط ہیں جو بیعت کرنے والوں کے لیے ضروری ہیں۔جن کی تفصیل یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں نہیں لکھی گئی اور واضح رہے کہ اس دعوت بیعت کا حکم تخمیناً مدّت دس ماہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا ہے، لیکن اس کی تاخیر اشاعت کی یہ وجہ ہوئی ہے کہ اس عاجز کی طبیعت اس بات سے کراہت کرتی رہی کہ ہر قسم کے رطب و یابس لوگ اس سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں اور دل یہ چاہتا رہا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جن کی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے اور جو کچی اور سَرِیْعُ التَّغَیُّر اور مغلوب شک نہیں ہیں۔اسی وجہ سے ایک ایسی تقریب کی انتظار رہی کہ جو سچوں اور کچوں اور مخلصوں منافقوں میں فرق کر کے دکھلاوے۔سو اللہ جَلَّ شَانُـہٗ نے اپنی کمال حکمت اور رحمت سے وہ تقریب بشیر احمد کی موت کو قرار دے دیا۔۱؎ اور خام خیالوں اور کچوںاور بدظنّوں ۱؎ خدائے عزوجل نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء و اشتہار دسمبر ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے۔اپنے لطف و کرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اوّل کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کانام محمود بھی ہوگا اور اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ وہ اولوا العزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پید ا کر تا ہے۔