مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 208
کو الگ کر کے دکھلا دیا اور وہی ہمارے ساتھ رہ گئے جن کی فطرتیں ہمارے ساتھ رہنے کے لائق تھیں۔اور جو فطرتاً قوی الایمان نہیں تھے اور تھکے اور ماندے تھے وہ سب الگ ہو گئے اور شکوک و شبہات میں پڑ گئے۔پس اسی وجہ سے ایسے موقع پر دعوت بیعت کا مضمون شائع کرنا نہایت چسپاں معلوم ہوا تا’’خس کم جہاں پاک ‘‘کا فائدہ ہم کو حاصل ہو اور مغشوشین کے بد انجام کی تلخی اُٹھانی نہ پڑے اور تا جو لوگ جو اس ابتلاء کی حالت میں اس دعوت بیعت کو قبول کر کے اس سلسلہ مبارکہ میں داخل ہو جائیں وہی ہماری جماعت سمجھے جائیں اور وہی ہمارے خالص دوست متصور ہوں اور وہی ہیں بقیہ حاشیہ۔سو آج ۱۲؍ جنوری۱۸۸۹ء میں مطابق ۹ جمادی الاوّل ۱۳۰۶ھ روز شنبہ میں اس عاجز کے گھر میں بفضلہٖ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہوگیا ہے جس کا نام بالفعل محض تفاول کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی۔مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے لیکن میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہو گا۔اور اگر مدّت مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدائے عزّوجل اس دن کو ختم نہیں کرے گا جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کر لے۔مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا۔اے فخر رُسل قرب تو معلومم شد دیر آمدۂ زِ راہِ دُور آمدۂٖ۱؎ پس اگر حضرت باری جل شانہٗ کے ارادہ میں دیر سے مراد اسی قدر دیر ہے جو اس پسر کے پیدا ہونے میں جس کا نام بطور تفاؤل بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود لڑکا ہو۔ورنہ وہ بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا اور ہمارے بعض حاسدین کو یادرکھنا چاہیے کہ ہماری کوئی ذاتی غرض اولاد کے متعلق نہیں اور نہ کوئی نفسانی راحت ان کی زندگی سے وابستہ ہے۔پس یہ اُن کی بڑی غلطی ہے کہ جو انہوں نے بشیراحمد کی وفات پر خوشی ظاہر کی اور بغلیں بجائیں۔انہیں یقینا یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہماری اتنی اولاد ہو جس قدر درختوں کے تمام دنیا میں پتے ہیں اور وہ سب فوت ہو جائیں تو ان کا مرنا ہماری سچی اور حقیقی لذّت اور راحت میں کچھ خلل انداز نہیں ہو سکتا۔مُمیت کی محبت مَیّت کی محبت سے اس قدر ہمارے دل پر زیادہ تر غالب ہے کہ اگر وہ محبوب حقیقی خوش ہو تو ہم خلیل اللہ کی طرح اپنے کسی پیارے بیٹے کو بدستِ خود ذبح کرنے کو تیار ہیں کیونکہ واقعی طور پر بجُز اُس ایک کے ہمارا کوئی پیا را نہیں۔جَلَّ شَانُہٗ وَ عَزَّاِسْمُہٗ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ۔منہ