مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 188
صاف اور کھلے کھلے نہیں ہیں بلکہ ذوالوجوہ اور تاویل طلب ہیں سو اُن کی نظر میں اگر یہ ایک اجتہادی غلطی بھی متصور ہوتی تو وہ بھی ایک ادنیٰ درجہ کی اور نہایت کم وزن اور خفیف سی اُن کے خیال میں دکھائی دیتی کیونکہ ہر چند ایک غبی اور کور دل انسان کو خدا تعالیٰ کا وہ قانونِ قدرت سمجھانا بہت مشکل ہے جو قدیم سے اُس کے متشابہات وحی اور رؤیا اور کشوف اور الہامات کے متعلق ہے لیکن جو عارف اور بابصیرت آدمی ہیں وہ خود سمجھے ہوئے ہیں کہ پیش گوئیوں وغیرہ کے بارہ میں اگر کوئی اجتہادی غلطی بھی ہو جائے تو وہ محل نکتہ چینی نہیں ہو سکتی کیونکہ اکثر نبیوں اور اولوالعزم رسولوں کو بھی اپنے مجمل مکاشفات اور پیشگوئیوں کی تشخیص وتعیین میں ایسی ہلکی ہلکی غلطیاں پیش آتی رہی ہیں۔۱؎ اور ان کے بیدار دِل اور ۱؎ حاشیہ۔توریت کی بعض عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بعض اپنی پیشگوئیوں کے سمجھنے اور سمجھانے میں اجتہادی طور پر غلطی کھائی تھی اور وہ اُمیدیں جو بہت جلد اور بلا توقف نجات یاب ہونے کے لئے بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں وہ اس طرح پر ظہور پذیر نہیں ہوئی تھیں۔چنانچہ بنی اسرائیل نے خلاف اُن اُمیدوں کے صورت حال دیکھ کر اور دل تنگ ہو کر ایک مرتبہ اپنی کم ظرفی کی و جہ سے جو اُن کی طینت میں تھی کہہ بھی دیا تھا کہ اے موسیٰ و ہارون جیسا تم نے ہم سے کیا خدا تم سے کرے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ دل تنگی اس کم ظرف قوم میں اسی وجہ سے ہوئی تھی کہ انہوں نے جو جلد مَخلصی پا جانے کا اپنے دلوں میں حسب پیرایۂ تقریر موسوی اعتقادکر لیا تھا اس طور پر معرض ظہور میں نہیں آیا تھا اور درمیان میں ایسی مشکلات پڑ گئیں تھیں جن کی پہلے سے بنی اسرائیل کو صفائی سے خبر نہیں دی گئی تھی اس کی یہی و جہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اُن درمیانی مشقتوں اور اُن کے طول کھینچنے کی ابتدا میں مصفّا اور صاف طور پر خبر نہیں ملی تھی لہٰذا اُن کے خیال کا مَیلان اجتہادی طور پر کسی قدر اس طرف ہو گیا تھا کہ فرعون بے عون کا آیاتِ بیّنات سے جلد تر قصّہ پاک کیا جائے گا۔سو خدا تعالیٰ نے جیسا کہ قدیم سے تمام انبیاء سے اس کی سنّت جاری ہے پہلے ایام میں حضرت موسیٰ کو ابتلا میں ڈالنے کی غرض سے اور رُعب استغنا اُن پر وارد کرنے کے ارادہ سے بعض درمیانی مکارہ اُن سے مخفی رکھے کیونکہ اگر تمام آنے والی باتیں اور وارد ہونے والی صعوبتیں اور شدّتیں پہلے ہی ان کو کھول کر بتلائی جاتیں تو ان کا دل بکلّی قوی اور طمانیت یاب ہو جاتا۔پس اس صورت میں اس ابتلاء کی ہیبت ان کے دل پر سے اٹھ جاتی جس کا وارد کرنا حضرت کلیم اللہ پر اور ان کے پیروؤں پر بمراد ترقی درجات و ثواب آخرت ارادئہ الٰہی میں قرار پا چکا تھا۔ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے جو جو اُمیدیں اور بشارتیں اپنے حواریوں کو اس