مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 169

پادری صاحب نے خود تسلیم کر لیا کہ حقیقت میں یہ پیشگوئی انسانی طاقتوں سے بالا تر ہے تو پھران پر واجب و لازم ہو گا کہ اس کا جھوٹ یا سچ پرکھنے کے لیے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور اخبار نور افشاں میں جو ان کی مذہبی اخبار ہے اس پیشگوئی کو درج کرا کر ساتھ اس کے اپنا اقرار بھی چھپوائیں کہ میں نے اس پیشگوئی کو من کل الوجوہ گو انسانی طاقتوں سے بالاتر( ہے) قبول کر لیا۔اسی و جہ سے تسلیم کر لیا ہے کہ اگر یہ پیشگوئی سچی ہے تو بلاشبہ قبولیت اور محبوبیّتِ الٰہی کے چشمہ سے نکلی ہے نہ کسی اور گندے چشمہ سے جو اٹکل و اندازہ وغیرہ ہے اور اگر بالآخر اس پیشگوئی کا مضمون صحیح اور سچ نکلا تو میں بلا توقف مسلمان ہو جائوں گا۔کیونکہ جو پیشگوئی محبوبیّت کے چشمہ سے نکلی ہے وہ اس دین کی سچائی کو ثابت کرنے والی ہے جس دین کی پیروی سے یہ مرتبہ محبوبیّت کا ملتا ہے اوریہ بھی ظاہر ہے کہ محبوبیّت کو نجات یافتہ ہونا ایک امر لازمی ہے۔اور اگر پیشگوئی کا مضمون صحیح نہ نکلا یعنی بالآخر جھوٹی نکلے تو دو سو روپیہ جو جمع کر ایا گیا ہے پادری صاحب کو دیا جائے گا، لیکن اگر روز انعقاد جلسہ سے ایک ہفتہ تک پادری صاحب نے مضمون پیشگوئی کو معہ اپنے اقرار مشرف اسلام ہونے کے جس پر بیس پچیس معز ز مسلمانوں اور ہندوئوں کی گواہی ثبت ہو گی اخبار نورافشاں میں درج نہ کرایا یا پہلے ہی سے ایسے جلسہ میں آنے سے انکار کیا تو پبلک کو سمجھ لینا چاہیئے کہ پادری صاحبوں کو حق کی اطاعت منظور نہیں بلکہ صرف تنخواہ پانے کا حق اد ا کر رہے ہیں۔اور یہ بھی واضح رہے کہ اگر پادری صاحب بعد وصول اس اشتہار کے پابندی ان شرائط کے اپنے نفس پر قبول کر لیں تو یہ کچھ ضرور نہیں کہ وہ ہمارے مکان پر ہی آویں بلکہ ہم خود ان کے مکان پر اس شرط سے جا سکتے ہیں کہ دو معزز عہدہ دار سرکاری بھی یعنی ایک تھانیدار اور ایک تحصیلدار اس جگہ حاضر ہوں جن کا اس جگہ پہلے بُلا لینا پادری صاحب کے ہی ذمہ ہو گا۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔خاکسار غلام احمد از بٹالہ ۲۴؍ مئی ۱۸۸۸ء (یہ اشتہار  کے دو صفحوں پر ہے) (شمس الہند گورداسپور) (تبلیغ رسالت جلد ۱ صفحہ ۱۰۵ تا ۱۰۸)